نیپال میں سیلاب کی تباہ کاریاں: ہلاکتیں 1,252 تک پہنچ گئیں، وزیراعظم کا موسمیاتی تبدیلی سے تعلق پر زور
نیپال میں تباہ کن سیلابی طغیانی سے ہلاکتوں کی تعداد جمعرات (3 ستمبر 2026) کو بڑھ کر 1,252 ہو گئی، جبکہ ایک ہفتے سے زائد گزرنے کے باوجود ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال پولیس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق چتوان ضلع سے 355، مشرقی نوالپراسی سے 218، مغربی نوالپراسی سے 208 (جن میں سے 18 لاشیں بھارت سے وصول کر کے مغربی نوالپراسی حکام کے حوالے کی گئیں) اور نوواکوٹ سے 177 لاشیں نکالی گئیں۔ اسی طرح راسوا ضلع سے 127، گورکھا سے 69، دھادنگ سے 60 اور تنہوں سے 38 لاشیں برآمد ہوئیں۔
نیپالی فوج کی قیادت میں مشترکہ امدادی ٹیمیں جمعرات کو نویں روز بھی تلاش و بچاؤ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاپتہ افراد کی تعداد کا تخمینہ 4,875 لگایا گیا ہے۔
یہ سیلاب 26 اگست کو نیپال تبت سرحد کے قریب برفانی چٹان تودے گرنے سے شروع ہوا تھا، جس نے شمالی اور وسطی نیپال کے قصبوں اور دیہات کو شدید نقصان پہنچایا۔
تبت میں پھنسے نیپالی شہری
نیپال کی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے بتایا کہ سیلاب کے بعد تبت میں تقریباً 100 نیپالی شہری لاپتہ ہیں۔ زیارت اور کاروبار کے سلسلے میں تبت گئے تقریباً 3,000 نیپالی شہری وہاں پھنس گئے تھے، جن میں سے 2,500 سے زائد افراد ہلسا اور تاتوپانی سرحدی مقامات کے راستے، جبکہ کچھ فضائی راستے سے وطن واپس آ چکے ہیں۔ تاحال 1,500 کے قریب نیپالی شہری کیرونگ سرحدی مقام پر پھنسے ہوئے ہیں، جن کے محفوظ انخلا کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت جاری ہے۔



