ریونت ریڈی کا کونڈا سریکھا کو تلنگانہ کابینہ سے فارغ کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے وزیر جنگلات کونڈا سریکھا کو فوری طور پر کابینہ سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ریاستی منصوبہ بندی بورڈ کے نائب چیئرمین جی چنا ریڈی کی تقرری بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ وزیر جنگلات کی برطرفی کی اطلاع گورنر شیو پرتاپ شکلا کے دفتر کو دے دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ کانگریس ہائی کمان کی منظوری کے بعد سامنے آیا، جب تلنگانہ پی سی سی کی ڈسپلنری کمیٹی نے 20 اگست کو صدر مہیش کمار گوڑ کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے دونوں سینئر رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی تھی۔
کونڈا سریکھا کی بیٹی کونڈا سشمیتا نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعلیٰ نے اپنے بھائی کی ایک بے نام کمپنی کو قیمتی اراضی سستے داموں فراہم کی۔ دوسری جانب جی چنا ریڈی نے الزام لگایا تھا کہ وناپرتی کے ایم ایل اے ٹی میگھا ریڈی کو رقم کے عوض پارٹی ٹکٹ دیا گیا۔
ان بیانات پر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی اور دونوں رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ وزیر جنگلات کا مؤقف تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے بیانات کی ذمہ دار نہیں، تاہم کئی ایم ایل ایز نے ان کے خلاف کارروائی پر اصرار کیا۔
جی چنا ریڈی کی جگہ تلنگانہ خواتین کمیشن کی چیئرپرسن گڈوال وجے لکشمی کو منصوبہ بندی بورڈ کا نیا نائب چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ نریلا شاردا کو خواتین کمیشن کی نئی چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔ سابق رکن پارلیمنٹ جی سدھا رانی کو کاکتیہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ کونڈا سریکھا کے مستقبل کے لائحہ عمل کا تاحال علم نہیں۔



