بین الاقوامیعرب دنیا

جنوبی ایران میں شادی کی تقریب پر مبینہ امریکی میزائل حملہ، 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی

تہران جنوبی ایران میں آبنائے ہرمز کے ساحلی قصبے کوہستک میں شادی کی ایک تقریب پر مبینہ امریکی میزائل حملے کے نتیجے میں دو خواتین اور دو بچوں سمیت 4 افراد ہلاک اور 68 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ ماہی گیر علی ملاہی کے گھر پر اس وقت ہوا جب وہ اپنی بیٹی کی شادی منا رہے تھے۔

حملے کی تفصیلات اور جانی نقصان

ایرانی سرکاری میڈیا اور خبر رساں ادارے کے مطابق مرنے والے بچوں کی عمریں 4 سال اور 16 سال تھیں۔ مقامی انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق 16 سالہ لڑکا مکان سے سو میٹر دور واقع مواصلاتی ٹاور پر گرنے والے میزائل کے ٹکڑے لگنے سے جاں بحق ہوا، جبکہ قریبی بندرگاہ پر بھی حملے کیے گئے۔ متاثرین کو فوری طور پر میناب کے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس سے قبل 28 فروری کو میناب میں ایک پرائمری اسکول پر امریکی میزائل حملے میں 100 سے زائد بچے ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی موقف اور اسلحہ ماہرین کی رائے

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ امریکی فوج شادی پر حملے کی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم انہوں نے باضابطہ تحقیقات کے آغاز کی تصدیق نہیں کی۔ امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ کارروائی میں فضائی دفاعی نظام اور ریڈار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسلحہ کے ماہرین نے جائے وقوعہ سے ملنے والے ملبے کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ بوئنگ کے تیار کردہ انتہائی درست نشانے والے امریکی ساختہ کروز میزائل کے ذریعے کیا گیا، جس کی رینج 270 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق تازہ امریکی بمباری کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے 4 اہلکار اور رضاکار فورس بسیج کے 10 ارکان بھی مارے گئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 108 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button