بین الاقوامیعرب دنیا

امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول ایران جنگ کے دوران مستعفی

امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران استعفیٰ دے دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کا استعفیٰ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ اختلافات کے بعد سامنے آیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈرسکول نے پیر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد استعفیٰ پیش کیا۔ وائٹ ہاؤس نے تاحال اس استعفے کی تصدیق نہیں کی۔

رپورٹس کے مطابق ڈرسکول اور ہیگستھ کے درمیان فوج کی جدید کاری، متعدد اعلیٰ افسران کی برطرفی اور دیگر افسران کی ترقیوں کو روکے جانے پر اختلافات پائے جاتے تھے۔

دوسرے سینئر عہدیدار کا استعفیٰ

ایران جنگ کے دوران استعفیٰ دینے والے ڈرسکول دوسرے سینئر سویلین فوجی عہدیدار ہیں۔ اپریل میں بحریہ کے سیکریٹری جان فیلن کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ امریکی فوجی نظام کے تحت بحریہ، بری فوج اور فضائیہ کے علیحدہ سیکریٹری وزیر دفاع کے ماتحت ہوتے ہیں۔

فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کی برطرفی کے بعد ادارہ فی الوقت سویلین اور مستقل عسکری سربراہ دونوں سے محروم ہے۔ نائب سربراہ جنرل جیمز منگس کو گزشتہ اکتوبر ہٹایا گیا تھا، جبکہ ان کے متبادل کے طور پر نامزد جنرل کرسٹوفر لینیو کو تاحال سینیٹ کی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق ہیگستھ نے مزید تین جرنیلوں کو بھی برطرف کیا جو جارج کے ممکنہ جانشین ہو سکتے تھے۔ اگرچہ امریکی فوج ایران کے ساتھ زمینی جنگ میں شریک نہیں، تاہم خطے میں تعینات فوجی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع فراہم کر رہے ہیں، جن میں کچھ فوجی ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

ڈرسکول عراق میں بطور فوجی لیفٹیننٹ خدمات انجام دے چکے ہیں اور ییل لا اسکول سے تعلیم یافتہ ہیں، جہاں وہ نائب صدر جے ڈی وانس کے ہم جماعت رہے۔ میڈیا کے مطابق ترجمان شان پارنیل ان کے ممکنہ جانشین ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button