یوکرین کے گودام پر روسی ڈرون حملہ، دھماکوں اور آگ سے 37 افراد ہلاک، غفلت کی تحقیقات شروع
یوکرین کے دارالحکومت کے قریب واقع ضلع بوچا کے گاؤں میلا میں اسلحہ کے ایک گودام پر روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں زبردست دھماکے ہوئے اور شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث 37 افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ رواں سال کا مہلک ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
نقصانات اور رہائشی عمارتوں کی تباہی
یوکرینی قیادت کا ردعمل اور لاپروائی پر تحقیقات
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس واقعے کو بدترین غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرینی قانون کے مطابق رہائشی علاقوں کے قریب گولہ بارود ذخیرہ کرنا ممنوع ہے، جس پر باقاعدہ مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعظم سیرہی کوریٹسکی نے جولائی میں پیش آنے والے وشنیوے واقعے کا حوالہ دیا جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور کہا کہ ایسی سنگین غلطیاں مجرمانہ غفلت ہیں اور ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی۔
روسی دعویٰ اور فضائی حملوں میں شدت
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ گودام میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے پرزے اور لانچ بوسٹرز موجود تھے۔ روس نے میکولائیو اور ازمائل بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اس دوران جنوبی علاقے خیرسون میں حملوں سے دو افراد ہلاک اور ایک بچے سمیت 27 زخمی ہوئے، جہاں حکام نے شہریوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔



