بی ایل اوز کی ہڑتال سے حیدرآباد میں ایس آئی آر نوٹس کی تقسیم متاثر
حیدرآباد شہر کے مختلف انتخابی حلقوں میں اعزازیہ نہ ملنے کے خلاف بوتھ لیول آفیسرز کی ہڑتال کے باعث ووٹروں کو خصوصی تفصیلی نظرثانی کے نوٹسز کی تقسیم میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ کوکٹ پلی اور سکندرآباد کنٹونمنٹ کے علاقوں میں اہلکار گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاج پر ہیں۔
اعزازیہ کی عدم ادائیگی اور بی ایل اوز کے تحفظات
سکندرآباد کنٹونمنٹ کی اہلکار جی پلوی نے بتایا کہ پانچ دن سے ہڑتال جاری ہے اور اب تک صرف 5,500 روپے کی ایک قسط موصول ہوئی ہے۔ بوئن پلی کی فرزانہ بیگم کے مطابق حکام نے 3 اگست کو ادائیگی کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر ایک ماہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دوسری جانب بوئن پلی ڈویژن کی سعدیہ بیگم نے واضح کیا کہ کچھ اہلکار بغیر معاوضے کے بھی کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ 28 سے 31 اگست کے درمیان سماعت کے دوران ووٹرز کا نقصان نہ ہو۔ حیدرآباد میں کل 4,000 اہلکار تعینات ہیں، تاہم 19 لاکھ مشکوک ووٹرز کو بروقت نوٹسز نہ ملنے سے کئی شہری اگست کی سماعتوں میں شامل نہ ہو سکے۔
انتخابی حکام کی ہدایات اور سیاسی ردعمل
سکندرآباد کنٹونمنٹ کے رکن اسمبلی نارائنن سری گنیش نے اہلکاروں کے ساتھ میٹنگ کی اور انتخابی رجسٹریشن افسران سے ان کے معاوضے کی فوری ریلیز کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سی سدرشن ریڈی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہدایت جاری کی کہ تمام متعلقہ افراد کو نوٹسز کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ضروری دستاویزات کی تشہیر کی جائے۔
ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے دارالسلام میں خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبرائیں نہیں، پارٹی ووٹرز کو قانونی مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے نوٹسز موصول کرنے والے شہریوں پر زور دیا کہ وہ سماعت کے عمل کو سنجیدگی سے لیں۔



