بین الاقوامیعرب دنیا

چھ ماہ کی جنگ کے بعد ایران میں سخت گیر دھڑے کی گرفت مزید مضبوط

چھ ماہ سے جاری جنگ کے بعد ایران کی قیادت فوجی جرنیلوں اور سخت گیر مذہبی رہنماؤں کے گرد مزید متحد ہوگئی ہے۔ نئی قیادت امریکہ کے ساتھ طویل محاذ آرائی کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے اور اندرونی بے چینی کو روکنے پر بھی خاص توجہ دے رہی ہے۔

نئی قیادت میں سخت گیر چہرے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ابتدائی امیدوں کے برعکس ایران میں اقتدار کی سمت نرم نہیں ہوئی۔ نئی تقرریوں میں محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری مقرر کیا گیا، جبکہ احمد واحدی کو پاسداران انقلاب کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ بحری افواج کے قائم مقام کمانڈر علی عظمیٰ اور فوجی سربراہ علی عبداللہی بھی اپنے عہدوں پر برقرار رکھے گئے ہیں۔

رضائی نے خبردار کیا کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو خلیج فارس سے تیل کی برآمد بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی تقرریاں سخت موقف رکھنے والے عہدیداروں کے بڑھتے اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہیں، تاہم جنگ میں مزید شدت لازمی نہیں۔

احتجاج روکنے پر توجہ

سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حسین طائب کو بسیج کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ طائب ماضی میں انٹیلی جنس کے سربراہ رہ چکے ہیں اور ۲۰۰۹ء کے احتجاج کو دبانے میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔ ان کی تقرری کو ملک میں ممکنہ نئے احتجاج کو پہلے ہی روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

جنگ اور اقتصادی دباؤ کے باوجود فی الحال نئے احتجاج کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملا۔ تاہم بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور دستیابی سے متعلق مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

مذاکرات کے حامی بھی موجود

صدر مسعود پزشکیان جنگ ختم کرکے مذاکراتی حل کی حمایت کررہے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات کے دوران جنگ جاری رکھنا ایران کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

جون میں ہونے والی جنگ بندی جلد ہی حملوں کے تبادلے کے باعث ناکام ہوگئی تھی۔ ایران منجمد اثاثوں کی واپسی اور آبنائے ہرمز پر باضابطہ اختیار کا مطالبہ کررہا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button