آئی آئی ٹی دہلی میں طالب علم کی خودکشی کے بعد تعلیمی نظام کی مکمل تبدیلی کا مطالبہ
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے آئی آئی ٹی دہلی میں طالب علم کی خودکشی کے بعد ملک کے تعلیمی نظام میں بنیادی اور جامع تبدیلی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے سب سے بہترین تعلیمی اداروں کا یہ حال ہے تو باقی اداروں کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
خودکشی کے اعداد و شمار اور تعلیمی اصلاحات پر زور
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں دیپکے نے نشاندہی کی کہ ملک کے اعلیٰ ٹیکنالوجی اداروں میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 65 طلبہ خودکشی کر چکے ہیں۔ ‘اسکول ٹھیک کرو’ مہم کی قیادت کرنے والے رہنما کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک ایسے تعلیمی ماحول کی ضرورت ہے جہاں طلبہ کو تنہا چھوڑنے کے بجائے ان کی بات سنی جائے اور انہیں مستقبل کے حوالے سے پرامید اور محفوظ بنایا جائے۔
آئی آئی ٹی دہلی واقعہ اور تحقیقات
طلبہ کے شدید احتجاج اور کلاسز کی معطلی کے بعد ادارے نے آزادانہ تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج مکتا گپتا کی سربراہی میں ایک بیرونی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس سے قبل اتراکھنڈ کے سابق پولیس سربراہ اشوک کمار نے ذاتی وجوہات کی بنا پر کمیٹی کی سربراہی سے معذرت کر لی تھی، جس کے بعد پینل کو دوبارہ تشکیل دیا گیا۔



