علاقائی خبریںقومی

راہل گاندھی کا کھڑگے کے جلسہ گاہ کی نام نہاد تطہیر پر سخت ردعمل، نریندر مودی سے ایف آئی آر کا مطالبہ

کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ریاست اتراکھنڈ کے شہر ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے جلسہ گاہ پر کی گئی نام نہاد تطہیر یعنی شدھی کرن کی رسم پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے। انہوں نے اس عمل کو آئینی اور قانونی جرم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کرانے کے احکامات جاری کریں۔

دلت مخالف ذہنیت پر کڑی تنقید

نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی اس مخصوص سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ دلتوں کی ترقی، عزت اور کامیابی کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے تحفظ کے قانون کے تحت ایسی رسومات سرعام جرم ہیں اور اس معاملے میں کسی قسم کی خاموشی ناانصافی کے مترادف ہے۔

انصاف کی فراہمی کا مطالبہ

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کا نہیں بلکہ ملک بھر کے دلت طبقے کے وقار کا معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس صدر کے ساتھ اتراکھنڈ میں پیش آنے والے واقعے پر انصاف فراہم کرنا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ قائد حزب اختلاف کے مطابق اگر ایک قومی رہنما کے ساتھ ایسا امتیازی سلوک ہو سکتا ہے تو عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو آئین کے تحفظ اور مساوات کے بنیادی اصولوں کی جنگ قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button