علاقائی خبریںقومی

دہلی میں پیلٹ گن کیس، پولیس نے بالآخر ایف آئی آر درج کرلی

دہلی میں پیلٹ گن سے زخمی طالب علم ساحل لوچاب کی شکایت پر پولیس نے بالآخر مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر شکایت درج کرنے سے انکار کے بعد لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی زخمی طالب علم کے ہمراہ پولیس اسٹیشن پہنچے اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔

پولیس پر مقدمہ درج کرنے کا دباؤ

ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے واضح کیا کہ جب تک زخمی طالب علم کی شکایت پر مقدمہ درج نہیں کیا جاتا، وہ پولیس اسٹیشن کے باہر موجود رہیں گے۔ اس کے بعد پولیس نے ساحل لوچاب کی شکایت قبول کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرلی۔ پولیس نے معاملے سے متعلق طبی رپورٹس اور دیگر دستاویزات بھی بطور ثبوت حاصل کیے۔

یہ معاملہ ۲۰ جولائی کو طلبہ اور مظاہرین کی پارلیمنٹ مارچ کے دوران پیلٹ گن کے مبینہ استعمال کے بعد سامنے آیا تھا۔ واقعے میں ۱۹ سالہ ساحل لوچاب کی آنکھ میں شدید چوٹ آئی، جبکہ اس کے جسم پر بھی پیلٹ لگنے کے زخم بتائے گئے۔

پیلٹ گن کے استعمال پر تنازع

پیلٹ گن کے مبینہ استعمال پر سیاسی حلقوں میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ راہل گاندھی نے طلبہ کے خلاف اس کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے ان افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے مبینہ طور پر پیلٹ گن استعمال کرنے کے احکامات دیے تھے۔

مظاہرین کی جانب سے نیٹ امتحانی پرچے کے مبینہ افشا کے معاملے میں جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی نے تنازع کو مزید بڑھا دیا۔

راہل گاندھی نے اس معاملے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور پیلٹ گن کے استعمال کی ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ واقعے کے بعد زخمی طالب علم کی شکایت، طبی دستاویزات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر اب پولیس نے باضابطہ طور پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button