ایران کی ٹرمپ پر تنقید، معاشی جنگ کو ’دہشت گردی‘ قرار دے دیا
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں کشیدگی اور باہمی دشمنی میں مزید اضافہ ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا ردعمل
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں امریکی پالیسی کو معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے امریکی قرضوں سے متعلق ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا قرض تقریباً چالیس کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
عراقچی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے مالیاتی نظم و ضبط بحال کرنے کے وعدے کیے تھے، تاہم ان کی متعدد پالیسیوں کے باعث ملک پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اپنی داخلی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو بڑھایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کا مطالبہ
ٹرمپ نے اپنے اتحادی ممالک سے ایران کے خلاف متحد ہونے، اسے تنہا کرنے اور ایرانی خطرے کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جانے چاہئیں۔
ایران نے امریکی اقدامات کو دباؤ کی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی پالیسیوں کا نتیجہ مزید کشیدگی اور ناکامی کی صورت میں نکلے گا۔



