قومی

راجستھان میں مویشیوں کے احاطے میں اسکول، جماعت کی ٹیم کو مبینہ حملے کا سامنا

راجستھان کے جے پور ضلع میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے گئی جماعت کے کارکنوں کو مقامی افراد کی مبینہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ رام پورہ کنورپورہ گاؤں میں پیش آیا، جہاں کارکن جمعہ ۲۱ اگست کو سرکاری پرائمری اسکول کا جائزہ لینے اور طلبہ و اساتذہ سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔

گاؤں میں داخلے سے روکا گیا

ذرائع کے مطابق کارکنوں کے پہنچنے سے قبل مقامی افراد نے گاؤں کی جانب جانے والی مرکزی سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں اور داخل ہونے والی گاڑیوں کی جانچ بھی کی جا رہی تھی۔ بعد میں مقامی افراد اور کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد کارکنوں کو مبینہ طور پر علاقے سے باہر نکال دیا گیا۔

بعد ازاں مقامی افراد نے اسکول کے باہر دھرنا دیا اور جماعت کے خلاف نعرے لگائے۔ تاہم باگڑو کے ڈی ایس پی دھرمندر شرما نے کسی ایسے واقعے سے لاعلمی ظاہر کی۔

جماعت کے رہنما آشوتوش نے الزام عائد کیا کہ ٹیم پر حملہ کیا گیا، پتھراؤ کیا گیا اور کارکنوں کے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔ انہوں نے راجستھان کے وزیر تعلیم مدن دلاور پر حملے کی ہدایت دینے کا الزام بھی لگایا، تاہم اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

مویشیوں کے احاطے میں کلاسیں

جس اسکول کا معائنہ کیا جانا تھا، اس کی عمارت کو غیر محفوظ قرار دے کر طلبہ کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ فی الحال بچوں کی کلاسیں اسکول کے قریب موجود مویشیوں کے احاطے میں منعقد کی جا رہی ہیں۔

مقامی افراد، جن کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن بھی موجود تھے، کا کہنا ہے کہ عمارت کی مرمت مقامی کوششوں سے کی جاسکتی ہے اور حکومت نے اس کام کے لیے پہلے ہی رقم منظور کر رکھی ہے۔

یہ ٹیم جے پور ضلع کے دو سرکاری اسکولوں کا جائزہ لینے پہنچی تھی۔ مہم کے تحت اسکولوں کی عمارت، تعلیمی انتظامات، طلبہ کو دستیاب سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button