نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں پانچ سو سینتالیس ہوگئیں
نیپال میں تباہ کن سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد کم از کم پانچ سو سینتالیس ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق بھوٹیکوشی اور تریشولی دریائی علاقوں سے پانچ سو سینتالیس لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں، جبکہ ایک ہزار پانچ سو پینتالیس افراد کو بچایا گیا ہے۔ چین کے تبت میں پانچ افراد ہلاک اور پانچ سو اٹھاون لاپتہ ہیں۔
امدادی کارروائیاں جاری
جھیلوں سے مزید خطرہ
چین کے پانی کے وسائل کی وزارت نے خبردار کیا ہے کہ بالائی حصے میں بننے والی رکاوٹی جھیلوں سے خطرہ موجود ہے۔ چوہچن کھولا اور پوریپو سانگپو دریاؤں کے سنگم کے قریب بننے والی جھیل میں تقریباً بیس لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہے۔ اگر ملبے سے بنی قدرتی رکاوٹ ٹوٹ گئی تو پانی نیپال کی جانب تیزی سے بہہ سکتا ہے۔ خطرہ اس وقت تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک دونوں جھیلیں مکمل طور پر خالی نہ ہوجائیں۔
بھارتی شہری متاثر
نیپال میں تقریباً تین سو بھارتی سیاحوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ تازہ معلومات کے مطابق ایک سو اٹھہتر بھارتی شہری اب بھی لاپتہ ہیں، جبکہ چوراسی بھارتی شہریوں کو بچایا جاچکا ہے۔ ان میں تریشولی اول منصوبے کے تریسٹھ کارکن اور تمل ناڈو کے اکیس افراد شامل ہیں۔ مجموعی طور پر نیپال میں آٹھ سو چھبیس افراد اور تبت میں پانچ سو اٹھاون افراد لاپتہ ہیں۔
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق برفانی تودے کے انہدام اور ملبے کے بہاؤ سے یہ تباہی ہوئی۔



