بین الاقوامیعرب دنیا

ماؤنٹ لانگ تانگ پر گلیشیر کا دھماکہ: کیا برفانی جھیل کے ٹوٹنے سے ہولناک سیلاب آیا

نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو سے 45 کلومیٹر شمال میں واقع 7,245 میٹر بلند ماؤنٹ لانگ تانگ لیرنگ پر گلیشیر اور چٹانوں کے بڑے تودے گرنے کے باعث مٹی اور ملبے کے شدید ریلے نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور ماہرین کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں سرحدی ندیوں کے قدرتی راستے بند ہوئے اور بعد ازاں جھیل نما بند ٹوٹنے سے ترشولی اور بھوٹے کوسی ندیوں میں تباہ کن سیلاب آ گیا۔

تباہی کے اسباب اور ارضیاتی صورتحال

رپورٹس کے مطابق بدھ کی صبح نیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں 4.4 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے فوراً بعد لانگ تانگ کے شمالی حصے پر شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور غیر مستحکم برف کے باعث چٹانیں گرنے سے لیندے کھولا دریا کا بہاؤ عارضی طور پر رک گیا۔ اس عارضی بند کے اچانک ٹوٹنے سے کیچڑ، پتھروں اور پانی کا ایک دیو ہیکل ریلا تیزی سے نشیبی علاقوں کی طرف بڑھا۔

بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کا نقصان

اس تباہ کن سیلاب نے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے تک شدید تباہی مچائی۔ بھوٹے کوسی دریا پر موجود چھ بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے، بجلی کے سب اسٹیشنز اور ٹرانسمیشن لائنیں شدید متاثر ہوئیں۔ اس کے علاوہ ضلع نوواکوٹ میں واقع 25 میگاواٹ کا شمسی توانائی کا گرڈ مکمل طور پر مٹی میں دب گیا۔ رسوا سرحدی چوکی کے قریب متعدد اہم پل اور شاہراہیں بھی سیلابی ریلے کی نذر ہو گئیں۔

یاد رہے کہ اپریل 2015 کے زلزلے میں بھی لانگ تانگ کے جنوبی حصے میں گلیشیر گرنے سے پورا گاؤں تباہ اور 300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطے میں موجود کئی برفانی جھیلیں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مسلسل خطرے کی زد میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button