بین الاقوامیعرب دنیا

امریکہ اور کینیڈا میں تجارتی جنگ تیز، ایک دوسرے پر نئے محصولات عائد کرنے کی تیاری

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو انتہائی مشکل اور غیر معقول شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی منڈی تک رسائی کے بغیر کینیڈا کی معیشت کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بھی کینیڈا پر کئی دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ مبینہ طور پر غیر منصفانہ تجارتی رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

محصولات پر اختلاف شدت اختیار کرگیا

وائٹ ہاؤس کے مطابق کینیڈا نے امریکی تجاویز کو مسترد کرکے مذاکرات کے بجائے جوابی محصولات عائد کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ امریکی انتظامیہ نے کہا کہ اس نے اسٹیل، المونیم اور گاڑیوں پر عائد محصولات میں کمی کے لیے اقدامات کیے تھے، تاہم کینیڈا نے تعاون نہیں کیا۔

امریکی حکام نے کینیڈا کی جانب سے امریکی دودھ اور دیگر زرعی مصنوعات پر ۳۰۰ فیصد تک محصولات عائد کرنے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باعث امریکی مصنوعات کے لیے کینیڈین منڈی تک رسائی مشکل ہوگئی ہے۔

دوسری جانب کینیڈا نے امریکی مطالبات کو اپنے قومی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈین حکومت نے واضح کیا کہ امریکی تجارتی اقدامات کے جواب میں وہ برابر شرح سے جوابی کارروائی کرے گی۔

27.6 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر محصولات

کینیڈا کے وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شامپین کے مطابق ۸ ستمبر سے ۲۷.۶ ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات پر ۱۵، ۲۵ اور ۵۰ فیصد تک نئے محصولات عائد کیے جائیں گے۔

کینیڈین حکومت نے تجارتی تنازع سے متاثرہ مزدوروں اور کاروباری اداروں کی مدد کے لیے ۷.۵ ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، کاروبار اور صارفین پر مزید دباؤ پڑنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button