مودی سے ملاقات میں سوالات سے گریز پر راضی ہوئے ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران بھارتی درخواست پر صحافیوں کے سوالات سے گریز کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم ملاقات شروع ہونے کے بعد انہوں نے اچانک صحافیوں کو سوالات کرنے کی دعوت دے دی۔ یہ دعویٰ امریکی سفیر سرجیو گور نے کیا ہے۔
گور نے اقتصادی امور سے متعلق ایک عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ اور مودی کی ملاقات سے قبل ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق وہ ملاقات سے پہلے ٹرمپ کے ساتھ موجود تھے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے ممکنہ موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بھارت نے مکمل پریس کانفرنس سے گریز کی درخواست کی
گور کے مطابق امریکی صدر نے پوچھا کہ بھارتی وفد کی جانب سے کوئی خصوصی درخواست ہے یا نہیں۔ اس پر بتایا گیا کہ بھارتی وزارت خارجہ چاہتی ہے کہ میڈیا کو ملاقات کے آغاز میں موجود رہنے دیا جائے، تاہم مکمل پریس کانفرنس نہ ہو۔
گور نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کو بتایا کہ بھارتی فریق صحافیوں کے سوالات نہیں چاہتا۔ ان کے مطابق ٹرمپ نے اس پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں۔
ٹرمپ نے اچانک سوالات کی دعوت دے دی
گور نے کہا کہ ٹرمپ کے اس اقدام کے بعد ملاقات کا انداز مکمل طور پر تبدیل ہوگیا اور صحافیوں نے مختلف معاملات پر سوالات شروع کردیے۔
امریکی سفیر کے مطابق صحافیوں کے ساتھ یہ گفتگو تقریباً ۴۵ منٹ تک جاری رہی، جس کے دوران متعدد موضوعات زیر بحث آئے۔ گور کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملاقات میں میڈیا کی شرکت بھارت کی محدود درخواست سے کہیں زیادہ وسیع ہوگئی تھی۔



