سائنس

گگن یان مشن آخری مرحلے میں، چار ماہ کے اندر پہلا بغیر انسان خلائی مشن متوقع

بھارت کے انسانی خلائی سفر کے اہم منصوبے گگن یان نے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر وی نارائنن کے مطابق پہلے بغیر انسان خلائی مشن کو آئندہ چار ماہ کے اندر روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے قبل تین بغیر انسان مشن مکمل کیے جائیں گے تاکہ خلائی جہاز، راکٹ اور دیگر نظاموں کی کارکردگی جانچی جاسکے۔

گگن یان کی تیاری آخری مرحلے میں

احمد آباد میں قومی خلائی دن کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نارائنن نے بتایا کہ گگن یان منصوبے کے سلسلے میں تقریباً آٹھ ہزار تجربات مکمل کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ اب آخری مرحلے میں ہے۔

گگن یان بھارت کے پیچیدہ ترین خلائی منصوبوں میں شامل ہے، جس کے لیے انسان بردار راکٹ، خلائی عملے کے لیے مخصوص کیپسول، زندگی برقرار رکھنے والے نظام اور محفوظ واپسی کی ٹیکنالوجی درکار ہے۔

آٹھ راکٹ اور بارہ مصنوعی سیارے

موجودہ مالی سال کے دوران بھارتی خلائی ادارہ آٹھ راکٹ مشن اور بارہ مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان مشنوں سے مواصلات، رہنمائی، زمین کے مشاہدے اور سائنسی تحقیق میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر نارائنن کے مطابق بھارت کے پاس اس وقت چھپن خلائی اثاثے ہیں، جبکہ اگلے پانچ برس میں ملک کو کم از کم دو سو سے تین سو مصنوعی سیاروں کی ضرورت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہدف نجی کمپنیوں اور نئی خلائی کمپنیوں کی شمولیت کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کا کردار

خلائی شعبے میں اصلاحات کے بعد بھارت میں خلائی شعبے سے وابستہ نئی کمپنیوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً چار سو چالیس ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر نارائنن نے نجی کمپنیوں، بھارتی خلائی ادارے اور متعلقہ اداروں کے تعاون کو اہم قرار دیا۔

بھارت کے مستقبل کے منصوبوں میں چاند، زہرہ اور مریخ کے مشن بھی شامل ہیں۔ ملک کا ہدف دو ہزار پینتیس تک اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنا اور آئندہ برسوں میں سیکڑوں مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button