علاقائی خبریںقومی

راہل گاندھی کے بعد سوراو داس کا بیلا اسٹیٹ دورہ، 909 میں سے ایک ووٹر کا دعویٰ

دہلی کے بیلا اسٹیٹ علاقے میں ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف ہونے کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔ کوکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے شریک کنوینر اور ترجمان سوراو داس نے دعویٰ کیا ہے کہ خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بستی کے 909 ووٹرز میں سے 908 کے نام انتخابی فہرست سے حذف کردیئے گئے اور صرف ایک ووٹر کا نام باقی رہ گیا۔

سوراو داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیلا اسٹیٹ کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خصوصی نظرثانی کی کارروائی کے بعد بستی میں صرف ایک شخص کا نام انتخابی فہرست میں موجود ہے۔ انہوں نے بیلا اسٹیٹ کے معاملے کو ملک بھر میں ہونے والی کارروائی کا ایک ’’چھوٹا نمونہ‘‘ قرار دیا۔

سی جے پی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ خصوصی نظرثانی کے دوران ملک بھر میں 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی سیاسی دباؤ میں کام کرنے کا الزام لگایا۔ تاہم، یہ تمام الزامات سوراو داس کے دعووں پر مبنی ہیں۔

بیلا اسٹیٹ کا معاملہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب ایک پولنگ اسٹیشن کے بارے میں رپورٹ سامنے آئی کہ خصوصی نظرثانی سے قبل وہاں 729 ووٹرز درج تھے، جبکہ مسودہ انتخابی فہرست میں صرف ایک ووٹر کا نام باقی رہ گیا۔

اس کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے بیلا اسٹیٹ کا دورہ کیا اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ متاثرہ افراد کئی برسوں سے علاقے میں رہ رہے ہیں اور 2024 کے لوک سبھا اور 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں ووٹ بھی دے چکے ہیں۔

دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر اشوک کمار نے واضح کیا کہ زیر بحث فہرست حتمی انتخابی فہرست نہیں بلکہ مسودہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حذف شدہ ناموں کی شمولیت کے لیے فارم 6 کے ذریعے دعویٰ داخل کیا جاسکتا ہے۔ حکام کے مطابق 30 ستمبر تک تقریباً 475 افراد نے دوبارہ نام شامل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

سی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف 10 اکتوبر سے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button