بین الاقوامیعرب دنیا

فرانس میں طلبہ کا بڑا احتجاج، 2 لاکھ 66 ہزار افراد سڑکوں پر

فرانس میں اسکولوں کے لیے مزید فنڈز اور بہتر تعلیمی سہولتوں کے مطالبے پر شروع ہونے والا طلبہ احتجاج ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوگیا ہے۔ 6 اکتوبر کو ملک بھر میں تقریباً 2 لاکھ 66 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، جن میں پیرس کے تقریباً 56 ہزار افراد شامل تھے۔ پولیس نے پیرس سمیت مختلف شہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور دیگر ہجوم پر قابو پانے والے ذرائع استعمال کیے۔

یہ احتجاج ستمبر کے وسط میں پیرس کے مضافاتی علاقے کے ایک ہائی اسکول سے شروع ہوا تھا، جو اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے۔ طلبہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، خستہ حال عمارتوں، وسائل کی قلت، طویل تعلیمی اوقات اور تعلیمی مواقع میں عدم مساوات کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

تقریباً 500 افراد زیر حراست

فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق منگل کے احتجاج کے دوران تقریباً 500 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس سے قبل احتجاج شروع ہونے کے بعد سے 6,500 سے زیادہ افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں، جن میں بڑی تعداد کم عمر افراد کی ہے۔

پیرس میں ایک بڑی ریلی مجموعی طور پر پُرامن رہی، تاہم اختتام پر کچھ مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مارسیلیا، اسٹراسبرگ اور دیگر شہروں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔

وزیر داخلہ لاراں نونیز نے پولیس کارروائی کو تقریباً تمام معاملات میں متناسب قرار دیا اور کہا کہ بعض مقامات پر احتجاج پرتشدد صورت اختیار کرگیا تھا، جس کے باعث پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے طلبہ کے مطالبات سننے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔

پولیس کارروائی پر بھی سوالات

احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی پر انسانی حقوق کے گروپوں، طلبہ اور بعض والدین کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایک حالیہ واقعے میں 15 سالہ لڑکے کا ہاتھ پولیس کی جانب سے استعمال کیے گئے ایک ہجوم پر قابو پانے والے دستی بم کے واقعے میں زخمی ہوکر ضائع ہوگیا۔ رائٹرز کے مطابق حکومت نے پولیس کے طریقہ کار کا دفاع کیا ہے، جبکہ بعض حلقوں نے اسے کم عمر مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت قرار دیا ہے۔

خستہ اسکول اور اساتذہ کی کمی

طلبہ کا کہنا ہے کہ بعض اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے، جبکہ کئی اداروں کو اساتذہ کی قلت، زیادہ طلبہ والی جماعتوں اور عمارتوں کی مرمت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ وزارت تعلیم کے مطابق 891 اسکولوں میں منگل کو تدریسی سرگرمیاں مکمل یا جزوی طور پر معطل رہیں۔ حکومت نے طلبہ کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم بھی شروع کیا ہے، جہاں وہ اپنی مشکلات اور مطلوبہ تبدیلیوں سے متعلق شکایات درج کراسکتے ہیں۔

احتجاجی تحریک نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ طلبہ تنظیموں نے مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں مزید مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ پڑوسی ملک بیلجیم میں بھی طلبہ کے احتجاج ہوئے، جہاں لیئژ شہر میں 30 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button