تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

کے بی آر پارک کا بڑا منصوبہ منسوخ، 1090 کروڑ کی اسکیم کی جگہ نیا ایلیویٹڈ کوریڈور منظور

حیدرآباد کے کاسو برہمانند ریڈی (کے بی آر) پارک کے اطراف فلائی اوور اور انڈر پاس تعمیر کرنے کے بڑے منصوبے کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی مستقل کمیٹی نے تقریباً 1090 کروڑ روپے مالیت کے اس منصوبے کو ختم کرتے ہوئے پنجاگٹہ سے جوبلی ہلز چیک پوسٹ تک ایک نئے ایلیویٹڈ کوریڈور کی منظوری دی ہے۔

متعدد فلائی اوور اور انڈر پاس کا منصوبہ ختم

کے بی آر پارک کے اطراف ٹریفک کو بہتر بنانے کے لیے مختلف مقامات پر فلائی اوور اور انڈر پاس تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ منصوبے میں جوبلی چیک پوسٹ، کے بی آر پارک مین گیٹ، مگدھا جنکشن اور بساوتارکم کینسر اسپتال سمیت دیگر مقامات پر تعمیراتی کام شامل تھے۔

حکام کے مطابق اس منصوبے کو منسوخ کرنے کی ایک اہم وجہ کے بی آر پارک کے اطراف نافذ کیا گیا یک طرفہ ٹریفک نظام ہے، جس کے بعد علاقے میں ٹریفک کی روانی میں بہتری دیکھی گئی۔ اسی وجہ سے پہلے سے منظور شدہ بڑے تعمیراتی منصوبے کی ضرورت پر دوبارہ غور کیا گیا۔

پنجاگٹہ سے جوبلی ہلز تک نیا کوریڈور

مستقل کمیٹی نے پنجاگٹہ این ایف سی ایل جنکشن سے جوبلی ہلز چیک پوسٹ میٹرو اسٹیشن روڈ تک تقریباً 4 کلومیٹر طویل اور 6 لین کے ایلیویٹڈ کوریڈور کی منظوری دی ہے۔ اس کوریڈور کا مقصد اہم چوراہوں پر سگنل سے پاک آمدورفت فراہم کرنا ہے۔

مجوزہ کوریڈور کے ذریعے پنجاگٹہ کی جانب سے آنے والی گاڑیوں کو جوبلی چیک پوسٹ کی سمت اور آئی ٹی کوریڈور سے آنے والی ٹریفک کو دوسری سمت بہتر راستہ فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ بنجارہ ہلز روڈ نمبر ایک کی جانب جانے والی گاڑیوں کے لیے جلگم وینگل راؤ پارک کی طرف ایک علیحدہ ریمپ بھی تجویز کیا گیا ہے۔

ماحول اور عوامی رقم کے استعمال پر سوالات

کے بی آر پارک کے اطراف تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران درختوں اور ماحول پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ نئے منصوبے کے بعد بھی شہریوں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی تحفظ اور عوامی رقم کے مؤثر استعمال کو ترجیح دی جائے۔

دریں اثنا، منسوخ شدہ منصوبے سے متعلق معاہدوں کو ختم کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ نئے ایلیویٹڈ کوریڈور کی حتمی لاگت ڈیزائن اور تفصیلی منصوبہ بندی مکمل ہونے کے بعد طے کی جائے گی، جبکہ تعمیر کی ذمہ داری مےگھا انجینئرنگ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button