بین الاقوامیعرب دنیا

فلائی دبئی کے ہیرو پائلٹ کی کھوپڑی میں فریکچر، سعودی عرب میں ہنگامی آپریشن

فلائی دبئی کی تل ابیب جانے والی پرواز کو بڑے حادثے سے بچانے والے بھارتی پائلٹ کیپٹن سمت مچھر کے سر پر حملے کے دوران شدید چوٹ آئی اور ان کی کھوپڑی میں فریکچر ہوگیا۔ ذرائع نے کو بتایا کہ عمانی معاون پائلٹ نے طیارے کے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے کیپٹن سمت پر حملہ کیا تھا۔ شدید زخمی ہونے اور خون بہنے کے باوجود کیپٹن سمت نے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس کے بعد عملے اور مسافروں نے مداخلت کرتے ہوئے معاون پائلٹ کو قابو کرلیا۔

ذرائع کے مطابق کیپٹن سمت کو سر، ہاتھوں، بازوؤں، ٹانگوں، سینے اور اوپری پیٹ پر بھی زخم آئے۔ سعودی عرب کے شہر تبوک میں ابتدائی طبی امداد کے دوران ڈاکٹروں نے ان کی کھوپڑی کی ہنگامی سرجری کی اور ہڈی کو درست کیا۔ بعد ازاں انہیں مزید علاج کے لیے متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا، جہاں وہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت میں بہتری کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔

کھوپڑی کا فریکچر کتنا سنگین؟

ذرائع کے مطابق کیپٹن سمت کو جس نوعیت کا فریکچر ہوا، اس میں کھوپڑی کی ٹوٹی ہوئی ہڈی کا ایک حصہ اندر کی جانب دب سکتا ہے اور دماغ پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ایسی چوٹ سنگین ہوسکتی ہے اور بعض صورتوں میں فوری طبی علاج یا آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیپٹن سمت کو اسی وجہ سے سعودی عرب میں ہنگامی طبی کارروائی سے گزرنا پڑا۔

خاندان کو اسپتال میں ملاقات کی اجازت

حکام نے کیپٹن سمت کے اہل خانہ کو اسپتال میں ان سے ملاقات کی اجازت دی ہے اور انہیں ان کی صحت سے متعلق مسلسل معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں بھارتی سفیر نے بھی کیپٹن سمت اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی۔ حکام کے مطابق پائلٹ علاج کا اچھا جواب دے رہے ہیں۔

زخمی حالت میں مسافروں کی جان بچانے کی کوشش

گزشتہ ہفتے وزیراعظم نریندر مودی سے ویڈیو رابطے کے دوران کیپٹن سمت نے بتایا تھا کہ حملے کے بعد وہ زخمی حالت میں زمین پر پڑے تھے، لیکن انہیں محسوس ہوا کہ طیارہ تیزی سے نیچے جارہا ہے اور اگر انہوں نے کچھ نہ کیا تو مسافروں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

کیپٹن سمت نے بتایا کہ اسی احساس کے بعد انہوں نے آخری کوشش کرتے ہوئے اندر سے کاک پٹ کا دروازہ کھولا۔ اس کے بعد دیگر افراد نے بھی صورتحال پر قابو پانے میں کردار ادا کیا۔

یہ واقعہ فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں پیش آیا تھا، جو دبئی سے تل ابیب جارہی تھی اور اس میں 170 سے زیادہ مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔ معاون پائلٹ کے حملے کے بعد طیارہ تیزی سے نیچے آیا، تاہم مسافروں اور عملے کی مداخلت اور دیگر پائلٹوں کی مدد سے طیارے کو سعودی عرب کے تبوک میں بحفاظت اتارا گیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button