کیپٹن سمت مچھر نے مودی سے ویڈیو کال پر فلائی دبئی واقعے کی تفصیل بتائی
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو فلائی دبئی کے بھارتی کیپٹن سمت مچھر سے ویڈیو کال پر بات کی اور دورانِ پرواز پیش آنے والے بحران میں ان کے حوصلے، حاضر دماغی اور حالات پر قابو رکھنے کی تعریف کی۔ سمت مچھر کو دو روز قبل دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے دوران ان کے معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر چاقو سے زخمی کردیا تھا۔
بات چیت کے دوران سمت مچھر جذباتی ہوگئے اور انہوں نے مودی سے کہا کہ ان سے بات کرنا ان کے لیے انتہائی خاص لمحہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو اپنا سب سے بڑا آئیڈیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں ان سے بات کرنے کا موقع ملے گا۔ مچھر نے یہ بھی بتایا کہ مشکل حالات میں وہ ہنومان چالیسہ پڑھتے ہیں اور طیارے کے اندر پیش آنے والے بحران کے دوران بھی وہ یہی پڑھ رہے تھے۔
مودی نے کیپٹن مچھر کی بہادری کو سراہا
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پورا ملک ان کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہے۔ انہوں نے کیپٹن مچھر کی بہادری اور فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔ مودی نے ان کی والدہ گیتا بین کا بھی ذکر کیا.
مچھر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ حملے کے بعد وہ شدید زخمی حالت میں زمین پر گر گئے تھے، لیکن انہیں محسوس ہوا کہ طیارہ نیچے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 11 برس سے کیپٹن ہیں اور آنکھیں بند ہونے کی صورت میں بھی طیارے کی صورتحال کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اسی احساس کے باعث انہوں نے آخری کوشش کرتے ہوئے رینگ کر کاک پٹ کا دروازہ کھولا، جس کے بعد مسافر اور عملہ اندر پہنچے اور حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد ملی۔
174 افراد پر مشتمل پرواز میں پیش آیا واقعہ
سمت مچھر فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے کیپٹن تھے۔ بوئنگ 737 میکس 8 طیارہ دبئی سے تل ابیب جا رہا تھا اور اس میں 174 افراد سوار تھے۔ سعودی عرب کی فضائی حدود میں مبینہ حملے کے بعد طیارہ تیزی سے نیچے جانے لگا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود مچھر نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس سے مسافروں اور عملے کو اندر داخل ہونے اور حملہ آور کو قابو کرنے کا موقع ملا۔ بعد میں طیارے میں موجود دیگر پائلٹوں نے کنٹرول سنبھالا اور پرواز کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔



