علاقائی خبریںقومی

گاندھی جی مردِ خدا تھے، اسی لیے مہاتما کہلائے

یہ مضمون ہندوستان کے سابق گورنر جنرل سی راج گوپال اچاری نے تحریر کیا تھا، جو پہلی مرتبہ 2 اکتوبر 1968 کو شائع ہوا۔ زیرنظر تحریر اسی مضمون کے منتخب حصوں پر مشتمل ہے۔

مہاتما گاندھی سے اپنی گہری قربت کے باوجود راج گوپال اچاری کہتے ہیں کہ جب وہ گاندھی جی کے بارے میں لکھنے بیٹھتے ہیں تو خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کرنے والے کئی سیکولر مداح انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں، جس نے دنیا کو تشدد کے بجائے سچائی اور محبت کے ذریعے تنازعات حل کرنے کا نیا طریقہ دکھایا۔ تاہم مصنف کے نزدیک گاندھی جی کے نظریے کو محض ایک عملی طریقہ یا تکنیک سمجھنا بنیادی غلطی ہے۔

عدم تشدد محض ایک طریقہ نہیں

راج گوپال اچاری کے مطابق عدم تشدد کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس کے ذریعے وہی مقاصد حاصل کیے جائیں جو پہلے تشدد کے ذریعے حاصل کیے جاتے تھے۔ گاندھی جی کا راستہ برائی کے مقابلے میں محبت اور سچائی کو اختیار کرنے پر مبنی تھا، لیکن محبت اور سچائی بازار سے خریدی نہیں جاسکتیں۔ یہ جذبات انسان کے اندر خدا پر ایمان سے پیدا ہوتے ہیں۔

مصنف کے مطابق گاندھی جی جس اخلاقی قوت کو روحانی طاقت کہتے تھے، اس کا سرچشمہ حقیقی مذہبی وابستگی اور خدا پر پختہ یقین تھا۔ ان کی زندگی کے آخری لمحے تک اس بات پر زور رہا کہ عدم تشدد کی اصل طاقت یہی ایمان ہے۔

دل میں نفرت ہو تو عدم تشدد نہیں

راج گوپال اچاری واضح کرتے ہیں کہ عدم تشدد صرف لاٹھی، خنجر یا پستول استعمال نہ کرنے کا نام نہیں۔ اگر انسان جسمانی تشدد سے تو گریز کرے لیکن اس کے دل میں نفرت اور انتقام بھرا ہو تو اسے گاندھی جی کے تصور کا حقیقی عدم تشدد نہیں کہا جاسکتا۔

ان کے مطابق محبت اور سچائی کو دنیا کے نسلی، معاشی اور سیاسی تنازعات کا حل قرار دینا آسان ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنے مخالف سے محبت کیسے کرے، خاص طور پر اس وقت جب اس سے نفرت کرنے کی بظاہر بہت سی وجوہ موجود ہوں۔

مصنف کے نزدیک اسی مشکل کا جواب خدا پر مضبوط ایمان اور انسانی دلوں پر اس کی حاکمیت کے یقین میں پوشیدہ ہے۔ یہی یقین گاندھی جی کے عدم تشدد کو محض ایک نظریے یا ناکام ہونے والی تکنیک بننے سے بچاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button