بینک ملازمین کے لیے پانچ روزہ کام، کلواکنتلا کویتا کا مرکزی حکومت سے مطالبہ
تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنتلا کویتا نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بینک ملازمین کے لیے ہفتے میں پانچ دن کام کا نظام فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل کام کے دباؤ اور طویل اوقات کار کا سامنا کرنے والے بینک ملازمین کا یہ مطالبہ قابل غور ہے۔ کویتا نے کہا کہ اگر ہفتہ مکمل تعطیل دینا ممکن نہ ہو تو بینکوں کو ہفتے کے تمام دن کھول کر ملازمین کے لیے باری یا شفٹ کا نظام متعارف کرایا جاسکتا ہے۔
ملازمین پر کام کا دباؤ
کویتا کے مطابق بینک کھلنے کے بعد سے ملازمین صارفین کی خدمت، دفتری کام، مقررہ اہداف اور نقد رقم کی گنتی سمیت مختلف ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ملازمین کو مقررہ اوقات ختم ہونے کے بعد بھی رات دیر تک کام کرنا پڑتا ہے۔
پانچ روزہ کام کے مطالبے پر تنازع
بینک ملازمین کی تنظیمیں طویل عرصے سے ہفتے میں پانچ دن کام کے نظام کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ مارچ 2024 میں انڈین بینکس ایسوسی ایشن اور بینک ملازمین کی تنظیموں کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں تمام ہفتہ وار دنوں کو تعطیل قرار دینے کی سفارش شامل کی گئی تھی، تاہم اس کے نفاذ کے لیے مرکزی حکومت کی منظوری ضروری ہے۔
ملازمین کی تنظیموں نے اس مطالبے کے لیے احتجاج اور ہڑتالیں بھی کی ہیں۔ ستمبر 2026 میں ملک کے مختلف حصوں میں بینک ملازمین نے پانچ روزہ کام کے ہفتے کے مطالبے پر احتجاج کیا تھا۔
حکومت کی منظوری ابھی باقی
پانچ روزہ بینکنگ کے معاملے پر بینک یونینوں اور حکومت کے موقف میں اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ مارچ 2024 کے معاہدے میں اس معاملے پر اتفاق ہوا تھا اور آئی بی اے نے حکومت کو سفارش بھیجی تھی، جبکہ حالیہ مالیاتی ذرائع کے مطابق حکومت نے پانچ روزہ کام کے ہفتے کی حتمی منظوری نہیں دی ہے۔
کویتا نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بینک ملازمین کی طویل عرصے سے جاری اس مانگ پر مثبت فیصلہ کیا جائے اور اگر ہفتے کے تمام دن بینک کھلے رکھنے ہوں تو ملازمین کے لیے مناسب شفٹ نظام نافذ کیا جائے۔



