بھارتی خلائی آرکیٹیکچر کمپنی کا 21 روزہ تنہائی مشن مکمل
بھارت کی ایک خلائی آرکیٹیکچر کمپنی نے مستقبل کی خلائی مہمات کے دوران انسانی زندگی کو درپیش جسمانی، نفسیاتی اور آپریشنل چیلنجوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم "اینالاگ خلاباز مہم” مکمل کر لی ہے، جس میں عملے نے 21 دن سے زائد عرصہ تنہائی میں گزارا۔
"ویوم سیتو”، یعنی "خلا کا پل” کے نام سے موسوم اس مشن میں مکمل طور پر بھارتی ماہرین پر مشتمل عملے نے پولینڈ میں 27 روزہ مہم مکمل کی۔ اس پروگرام میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لُن ایریس ریسرچ اسٹیشن میں 18 روزہ مشن، اور اس کے بعد اینالاگ خلاباز تربیتی مرکز میں نو روزہ مرحلہ شامل تھا۔
یہ مہم بھارتی خلائی تعمیراتی کمپنی آرکاسا نے منظم کی، جبکہ سورت میں قائم خلائی ٹیکنالوجی کمپنی سیس لونر ٹیکنالوجیز نے سائنسی و تکنیکی شراکت دار کے طور پر کردار ادا کیا۔
تحقیق کا مقصد
اس مشن کا مقصد یہ جاننا تھا کہ طویل عرصے تک تنہائی اور محدود ماحول میں انسانی جسم اور ذہن کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ محققین نے عملے کی نفسیاتی کیفیت، ٹیم ورک، فیصلہ سازی، اور مسکن کی ساخت کا انسانی ذہن پر اثر جیسے پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ تجربات میں آواز اور حسی محرکات کے مزاج پر اثرات، اور پودوں کی دیکھ بھال سے تناؤ میں کمی جیسے موضوعات بھی شامل تھے۔
بھارت کے گگن یان پروگرام اور مستقبل کے خلائی اسٹیشن و چاند کی مہمات کے پیش نظر یہ مشن انسانی خلائی سفر کے کم نمایاں مگر انتہائی اہم پہلوؤں پر تجربہ حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق خلا میں زندگی کی تیاری صرف راکٹوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی ذہن اور رویے کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔



