ایران کے جزیرہ لارک پر امریکی حملہ، دو افراد ہلاک، خطے میں کشیدگی اور الزامات کا تبادلہ
خلیج فارس میں واقع ایرانی جزیرے لارک پر رات گئے امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے رکن علی فیاضی بھی شامل ہیں۔
امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہی تھی، جس پر کارروائی کی گئی۔ یہ حملہ جولائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی بڑی عسکری کارروائی ہے۔
رہنماؤں کے بیانات اور سفارتی کشیدگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں اتحادیوں کی کم مدد پر بھی شکوہ کیا۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے لیے بشکیک روانگی سے قبل واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی جارحیت پر خاموش نہیں رہے گا اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
کھارگ جزیرہ اور متحدہ عرب امارات کی صورتحال
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم تیل کے مرکز کھارگ جزیرے پر حملے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے ایرانی قومی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بورد نے کہا کہ تنصیبات پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے۔
ادھر متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اپنے المنہاد ایئر بیس پر میزائل حملے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا، تاہم تصدیق کی کہ اماراتی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حدود سے سمندری حدود میں داخل ہونے والے ایک ڈرون کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ اماراتی حکام نے عوام کو افواہوں سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔



