ایم آئی ایم سے اخراج کے بعد رحمت بیگ کا دعویٰ، متنازع ویڈیو جعلی قرار
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے خارج کیے گئے رکن قانون ساز کونسل مرزا رحمت بیگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سے متعلق متنازع ویڈیو جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہے، جس کا مقصد انہیں بدنام کرنا تھا۔ پولیس اور پارٹی نے ویڈیو کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، جبکہ بیگ نے تاحال قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔
پارٹی سے اخراج
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے جمعہ کی رات دیر گئے ایک بیان میں مرزا رحمت بیگ کو فوری اثر کے ساتھ پارٹی سے خارج کرنے کا اعلان کیا۔ پارٹی کے جوائنٹ سکریٹری ایس اے حسین انور نے انہیں تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین کو فوری طور پر اپنا استعفیٰ پیش کرنے کی ہدایت دی۔
پارٹی نے کارروائی کی مخصوص وجہ بیان نہیں کی اور صرف متنازع ویڈیو سے متعلق معاملے کا حوالہ دیا۔ اس کے بعد ویڈیو کے مواد اور نوعیت کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔
بلیک میلنگ کی شکایت
پولیس نے ویڈیو یا شکایت کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ہفتہ کی شام ایک مقامی یوٹیوبر نے مبینہ طور پر پانچ سیکنڈ کی ویڈیو جاری کی، جس میں ٹی شرٹ اور ٹریک پینٹ پہنے ایک شخص ہیلمٹ لے کر گھر میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو سے شخص کی شناخت یا واقعے کے حالات ثابت نہیں ہوتے اور اس کی صداقت کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوئی۔
رحمت بیگ کا مؤقف
ہفتہ کو بیگ نے قانون ساز کونسل کے چیئرمین کو استعفیٰ نہیں دیا۔ دریں اثنا سعودی عرب سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو سامنے آئی، جہاں وہ عمرہ کے لیے گئے تھے۔ بیگ نے ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ متنازع ویڈیو جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہے اور اسے انہیں بدنام کرنے کے مقصد سے بنایا گیا۔



