تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

مجلس سے بے دخل ایم ایل سی مرزا رحمت بیگ مبینہ طور پر لاپتہ، الزامات کی تردید اور تحقیقات کا مطالبہ

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے معطل کیے جانے والے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے رکن مرزا رحمت بیگ عمرہ کی ادائیگی کے بعد حیدرآباد واپسی پر مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال ان پر سوشل میڈیا کے الزامات، پارٹی سے اخراج اور قانون ساز کونسل سے استعفیٰ نہ دینے کے فیصلے کے درمیان سامنے آئی ہے۔

الزامات کی تردید اور ڈیپ فیک کا دعویٰ

سوشل میڈیا پر ایک نابالغ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال کے الزامات سامنے آنے کے بعد مرزا رحمت بیگ نے انہیں یکسر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف کوئی غلط کام ثابت نہیں ہوا اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ڈیپ فیک ویڈیوز گردش میں لائی جا رہی ہیں۔ رحمت بیگ نے واضح کیا کہ انہوں نے حیدرآباد سائبر کرائم پولیس سے بھی رجوع کیا تھا جہاں انہوں نے جعلی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ اور رقم کے مطالبے کی شکایت درج کرائی تھی۔

مجلس کی تادیبی کارروائی اور سیاسی ردعمل

مجلس نے 29 اگست کو فوری اثر سے رحمت بیگ کو پارٹی سے خارج کر دیا اور کونسل چیئرمین کو استعفیٰ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے بطور عام کارکن کام جاری رکھنے اور پارٹی صدر اسد الدین اویسی سے انصاف کی امید ظاہر کی۔

دوسری جانب اس معاملے پر تلنگانہ کی سیاست میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ بی جے پی اور بی آر ایس نے معاملے کی اعلیٰ سطحی اور شفاف جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی ترجمان این وی سبھاش نے کہا کہ محض تادیبی اخراج کافی نہیں بلکہ حکومت کو تمام حقائق سامنے لاتے ہوئے غیر جانبدارانہ قانونی کارروائی یقینی بنانی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button