نیپال اور تبت سرحد پر سیلاب سے 919 افراد ہلاک، 4,700 سے زائد لاپتہ
کاٹھمنڈو نیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں آنے والے قیامت خیز سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 919 ہو گئی ہے، جبکہ 4,793 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ نیپال کی قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صرف نیپال میں 903 اموات اور 4,247 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ چینی سرکاری میڈیا نے تبت میں 16 اموات اور 546 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔
لاپتہ شہریوں، ملازمین اور غیر ملکیوں کی تفصیلات
نیپالی حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں 3,655 مقامی شہری اور 592 غیر ملکی شامل ہیں۔ بجلی کے قومی منصوبوں پر کام کرنے والے 933 ملازمین بھی لاپتہ ہیں۔ ضلع نوواکوٹ میں لاپتہ افراد کی تعداد اچانک بڑھ کر 1,158 جبکہ رسوا میں 562 ہو گئی ہے۔ لاپتہ ہونے والوں میں نیپالی فوج کے 45 اہلکار، پولیس اور مسلح پولیس فورس کے 38 اہلکار، اور کسٹمز و امیگریشن کے 19 افسران بھی شامل ہیں۔ ادھر بھارت کی ریاست اتر پردیش میں نیپال سے آنے والے دریاؤں سے 17 لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد اور مصنوعی ذہانت کا تدارک
سیلابی تباہی کے دوران سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی اور پرانی ویڈیوز کا سیلاب آنے کے بعد حکومت نے گمراہ کن پروپیگنڈے کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ نیپال پریس کونسل کے چیئرمین امیش شریستھا کے مطابق نامناسب اور خوفناک مناظر پوسٹ کرنے والے 72 صارفین کو فوری مواد ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔ کونسل نے بھوٹے کوسی واقعے سے متعلق شکایات کے لیے ایک خصوصی آن لائن پورٹل قائم کیا ہے جہاں شہریوں کی جانب سے بڑی تعداد میں شکایات موصول ہوئی ہیں۔



