کہکشاںِ راہِ شیری میں تقریباً 17 کروڑ سیاہ شگاف موجود ہونے کا امکان
سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں تقریباً سترہ کروڑ سیاہ شگاف موجود ہو سکتے ہیں، جو مکمل طور پر نظر نہیں آتے مگر خلا میں خاموشی سے موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت کائنات کے پوشیدہ رازوں کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق سیاہ شگاف اس وقت وجود میں آتے ہیں جب بہت بڑے ستارے اپنی زندگی کے اختتام پر زبردست دھماکے کے بعد منہدم ہو جاتے ہیں۔ ان کی کششِ ثقل اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی، اسی وجہ سے انہیں براہِ راست دیکھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
ماہرین نے جدید کمپیوٹر نمونوں کی مدد سے گزشتہ تیرہ اعشاریہ چھ ارب سال کے دوران ہماری کہکشاں کی تشکیل، ستاروں کی پیدائش، ان کی موت اور سیاہ شگاف بننے کے عمل کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اس طویل عرصے میں تقریباً سترہ کروڑ بڑے ستارے سیاہ شگاف میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جدید خلائی دوربینیں اور سائنسی مشاہدات اس تحقیق کی تصدیق میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر یہ نتائج درست ثابت ہوئے تو انسان کائنات کے ان پراسرار اجسام کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ معلومات حاصل کر سکے گا۔
سائنس دانوں کے مطابق ماضی میں جب کہکشاں میں ستاروں کی پیدائش کی رفتار زیادہ تھی، اسی دوران سب سے زیادہ سیاہ شگاف وجود میں آئے۔ موجودہ دور میں ایسے نئے اجسام نسبتاً کم بن رہے ہیں، اس لیے ہمارے قریبی خلائی علاقے میں ان کی موجودگی کے امکانات بھی محدود سمجھے جاتے ہیں۔



