بین الاقوامیعرب دنیا

روس پر امریکی پابندیوں کے بل پر بھارت کا مؤقف: مفادات کا تحفظ کریں گے

امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے روس پر نئی پابندیوں کے قانون کی منظوری کے بعد بھارت نے کہا ہے کہ وہ اپنے تجارتی، اقتصادی اور توانائی کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ امریکی قانون میں روس سے توانائی درآمد کرنے والے بڑے ممالک پر بعض حالات میں ۱۰۰ فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جس کا ممکنہ اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومت ایک ارب چالیس کروڑ عوام کی توانائی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزارت کے مطابق بھارت اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے خریداری جاری رکھے گا اور بدلتی ہوئی عالمی منڈی کی صورتحال کو مدنظر رکھے گا۔

وزارت خارجہ نے بتایا کہ اس معاملے پر گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارت اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح پر متعدد مرتبہ بات چیت ہوئی ہے۔ نئی دہلی نے امریکی حکام کو واضح کیا ہے کہ مجوزہ اقدامات کے ممکنہ اثرات صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

بھارت نے یہ بھی کہا کہ وہ قانون پر ہونے والی مزید پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ضروری اقدامات کے ذریعے اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ حکومت اس سلسلے میں بھارتی تجارت اور صنعت سے وابستہ اداروں کے ساتھ مل کر ممکنہ اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرے گی۔

امریکی ایوان نمائندگان نے یہ قانون ۲۶۲ کے مقابلے میں ۱۵۹ ووٹوں سے منظور کیا۔ قانون اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس منظوری کے لیے جائے گا۔

قانون روسی حکام، مالیاتی اداروں اور توانائی کے شعبے پر پابندیاں سخت کرنے کے ساتھ روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے خریداروں پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ بھارتی اشیا پر فوری طور پر ۱۰۰ فیصد محصول عائد نہیں کیا گیا بلکہ قانون امریکی صدر کو مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں ایسا اقدام کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

بھارت اور چین روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، اسی لیے دونوں ممالک کی روس کے ساتھ توانائی تجارت امریکی قانون سے متعلق بحث کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button