کے ٹی آر کا 2028 کے انتخابات پر بڑا بیان، بی جے پی سے اتحاد نہیں
بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے واضح کیا ہے کہ 2028 کے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو ہریانہ کے سونی پت میں واقع او پی جندال گلوبل یونیورسٹی میں خصوصی خطاب کے دوران طلبہ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔
کے ٹی آر نے حلقہ بندی کے معاملے پر بھی بی آر ایس کا موقف واضح کیا۔ ان کے مطابق جنوبی ریاستوں کی لوک سبھا میں موجودہ نمائندگی تقریباً 24 فیصد ہے۔ اگر ملک بھر میں لوک سبھا کی نشستوں کی مجموعی تعداد اسی تناسب سے بڑھائی جاتی ہے تو بی آر ایس حلقہ بندی بل کی حمایت کرنے میں اعتراض نہیں کرے گی۔
یونیورسٹی میں ’’حکمرانی میں جدت: ایک اسٹارٹ اپ ریاست کی کہانی‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے تلنگانہ کی ترقی، انتظامی اصلاحات اور اختراعی اقدامات پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں کہا کہ ماضی میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی آمد پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے تھے، اسی طرح آج مصنوعی ذہانت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق تکنیکی تبدیلیوں کو روکنے کے بجائے انہیں اپنانے کی ضرورت ہے۔
کے ٹی آر نے تلنگانہ کو اسٹارٹ اپ ریاست قرار دیتے ہوئے ٹی ہب، وی ہب، ٹی ورکس اور ٹاسک جیسے اداروں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے خواتین کاروباری افراد، نوجوانوں کی مہارت، نمونہ سازی اور صنعتی مواقع کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے اسکائی روٹ ایرو اسپیس کو بھی تلنگانہ کے اختراعی ماحول کی ایک مثال قرار دیا۔
آبپاشی، زراعت، پینے کے پانی اور بجلی کے شعبوں میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کالیشورم منصوبے کو گوداوری کا پانی خشک سالی سے متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں چاول کی پیداوار 2014-15 میں 44.4 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2023-24 میں 168.8 لاکھ ٹن ہوگئی۔


