بین الاقوامیعرب دنیا

سعودی عرب کو میزائل دفاع کے لیے اتحادیوں کی مدد درکار

سعودی عرب نے حوثی حملوں کے باعث میزائل شکن نظام کی کمی کے پیش نظر فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سے فضائی دفاعی مدد طلب کی ہے۔ علاقائی حکام کے مطابق سعودی عرب کو میزائلوں اور ڈرونز سے نمٹنے کے لیے اضافی دفاعی نظام اور تعاون کی ضرورت ہے۔

دو علاقائی حکام نے بدھ کو بتایا کہ سعودی عرب میں میزائل شکن میزائلوں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ریاض نے اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ خطے میں فضائی دفاعی معاونت فراہم کریں۔ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی کیونکہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

سعودی عرب کے اہم اتحادی اور اسلحہ فراہم کرنے والے امریکا کے اپنے میزائل شکن ذخائر بھی ایران کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران کم ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے ریاض نے دیگر ممالک سے مدد لینے کی کوشش کی ہے۔

بدھ کو سعودی عرب نے حوثیوں پر اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو روک دیا گیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔ سعودی عرب نے مکہ کو اپنی ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کو فوجی دفاع کے ساتھ ساتھ تیل کی ترسیل کے تحفظ کا بھی مسئلہ درپیش ہے۔ ایران نواز ملیشیاؤں کے حملے کے بعد ایک اہم سعودی تیل پائپ لائن کئی ہفتوں سے بند ہے۔ حوثی سعودی تنصیبات اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

علاقائی حکام کے مطابق سعودی عرب اپنے اتحادیوں سے حوثیوں کے خلاف مشترکہ ردعمل پر بھی بات کر رہا ہے، تاہم فی الحال سفارت کاری کو موقع دینے پر توجہ ہے۔ عمان اور مصر یمن میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

برطانیہ نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے قریبی دفاعی تعلقات کی تصدیق کی، تاہم فوجی مدد کی سعودی درخواست کی تصدیق نہیں کی۔ پاکستان اور ترکی کے حکام نے بھی کہا کہ انہیں حوثی حملوں کے جواب میں سعودی عرب کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

دوسری جانب حوثیوں نے یمن کے صوبہ مآرب میں سعودی اتحاد کے ایف-15 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر چین نے امریکا اور ایران پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے پر زور دیا ہے۔ ایران نے بھی خطے میں امن اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بحالی کی خواہش ظاہر کی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button