بین الاقوامیعرب دنیا

مکہ کے قریب حوثیوں کا ڈرون تباہ، سعودی عرب کا سخت ردعمل

سعودی عرب کی فضائی دفاعی افواج نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کردیا۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بدھ، ۱۶ ستمبر کو واقعے کی تصدیق کی۔

اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو منگل، ۱۵ ستمبر کی شام تقریباً ۶ بج کر ۵۰ منٹ پر روکا گیا۔ ان کے مطابق ڈرون یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا نے بھیجا تھا اور اسے مکہ مکرمہ کے جنوب میں تباہ کیا گیا۔

المالکی نے کہا کہ یہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش تھی۔ انہوں نے اس حوالے سے ۲۷ جولائی ۲۰۱۷ کے واقعے کا ذکر کیا، جب مکہ مکرمہ کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا۔

ترجمان نے تازہ واقعے کو مکہ مکرمہ اور وہاں آنے والے زائرین کی سلامتی کے لیے دانستہ خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی حفاظت ایک ایسی حد ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان حوثیوں کی کارروائیوں کے جواب میں ضروری اور روک تھام کے اقدامات کرے گی۔

اسی روز سعودی عرب کے قومی ابتدائی انتباہی نظام نے مکہ شہر کے لیے ممکنہ خطرے کی اطلاع جاری کی تھی۔ خطرہ ٹلنے کے بعد یہ انتباہ واپس لے لیا گیا، جبکہ شہری دفاع نے لوگوں کو سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل جاری رکھنے کی تاکید کی۔

یہ واقعہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ ۱۴ ستمبر کو اتحاد نے دعویٰ کیا تھا کہ حوثی فورسز نے خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں شہری تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ المالکی کے مطابق ان حملوں میں ۱۳ شہری معمولی سے درمیانی نوعیت کے زخمی ہوئے، جبکہ سات رہائشی مکانات اور دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

تازہ کشیدگی یمن میں جولائی سے دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل ۲۰۲۲ میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد تقریباً چار سال تک نسبتاً سکون رہا تھا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button