ٹوٹا بازو، ٹوٹی کمر، پھر بھی ۷ ہزار فٹ پہاڑی چڑھ گیا امریکی فوجی
امریکی فضائیہ کے ایک افسر نے ایران میں تقریباً ۵۰ گھنٹے تک زخمی حالت میں چھپے رہنے اور دشمن کے علاقے سے زندہ واپس آنے کی اپنی خوفناک داستان پہلی بار عوام کے سامنے بیان کی ہے۔ افسر نے اپنی بقا کو ’’جدید دور کا معجزہ‘‘ قرار دیا۔
یہ واقعہ ۲ اپریل کو پیش آیا، جب امریکی فوج کا ایف پندرہ ای لڑاکا طیارہ ایران کی جانب سے داغے گئے کندھے سے چلنے والے میزائل کی زد میں آکر تباہ ہوگیا۔ طیارے میں موجود دونوں افسران نے خود کو پیراشوٹ کے ذریعے باہر نکالا۔ پائلٹ کو چند گھنٹوں میں تلاش کرلیا گیا، تاہم ہتھیاروں کے نظام کے افسر، جنہیں حفاظتی وجوہات کی بنا پر صرف ’’براوو‘‘ کہا گیا، دشمن کے علاقے میں پھنس گئے۔
براوو نے بتایا کہ میزائل کے طیارے سے ٹکرانے کا احساس ایسا تھا جیسے کسی بھاری مال بردار ٹرین نے طیارے کو ٹکر ماری ہو۔ تباہ شدہ طیارے کو بچانا ممکن نہ دیکھ کر دونوں نے چھلانگ لگا دی۔ پائلٹ بحفاظت اتر گئے، لیکن براوو کا پیراشوٹ خراب ہونے کے باعث وہ تقریباً آٹھ کلومیٹر دور جا گرے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر اوپر دیکھا تو پیراشوٹ نظر نہیں آیا، جو ان کی زندگی کا سب سے خوفناک لمحہ تھا۔ زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں ان کی کمر، بازو اور کندھا ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے دشمن کی موجودگی سے بچنے کے لیے پہاڑی راستہ اختیار کیا اور تقریباً ۷ ہزار فٹ بلند پہاڑی سلسلے تک چڑھ گئے۔
امریکی حکام کے مطابق براوو کو تلاش کرنے کے لیے سینکڑوں فوجیوں اور دیگر معاون اہلکاروں پر مشتمل وسیع کارروائی شروع کی گئی۔ ۹۰ سے زائد امریکی فوجی ایران میں زمینی کارروائی کے لیے بھیجے گئے، جو کئی دہائیوں بعد ایران میں امریکی زمینی فوج کی پہلی تعیناتی تھی۔
امریکی فوج نے ان کے قریب ایرانی دستوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امدادی ٹیم نے انہیں بحفاظت نکال لیا۔ خفیہ ادارے نے بھی گمراہ کن کارروائیوں اور پوشیدہ ٹیکنالوجی کے ذریعے تلاش میں مدد کی۔ تقریباً ۵۰ گھنٹے بعد براوو کی بازیابی ان کی زندگی کے عظیم ترین لمحات میں شمار ہوئی۔



