تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

حیدرآباد میں ایس آئی آر نوٹس کا جواب دے دیا اب ووٹرز کے ساتھ کیا ہوگا

حیدرآباد میں جاری خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران کئی ووٹرز نوٹس کا جواب دیتے ہوئے مطلوبہ دستاویزات جمع کرا رہے ہیں، تاہم بہت سے ووٹرز یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دستاویزات جمع کرانے کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوگا۔

دستاویزات کی جانچ: بہادرپورہ اسمبلی حلقہ کے اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (اے ای آر او) کے مطابق ایسے معاملات جن میں تفصیلات میں تضاد پایا جائے، ان کی دستاویزات کی جانچ اے ای آر او یا الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) کریں گے۔ جبکہ جن ووٹرز کا ریکارڈ سابقہ تفصیلات سے منسلک نہیں ہوگا، ان کے دستاویزات سافٹ ویئر کے ذریعے ضلع الیکشن آفیسر (ڈی ای او) کو بھیجے جائیں گے، جو ان کی جانچ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سماعتی مراکز پر بعض ووٹرز نوٹس میں دی گئی تاریخ اور وقت کے مطابق نہیں پہنچ رہے، تاہم اہل ووٹرز کو انتخابی فہرست سے خارج ہونے سے بچانے کے لیے دستاویزات قبول کرکے سماعت کی جارہی ہے۔ سماعت میں شرکت کرنے والے ووٹرز کو جمع کرائی گئی دستاویزات کی تفصیلات پر مشتمل رسید بھی دی جارہی ہے۔

نانا نانی کی تفصیلات بھی درست: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کئی مرتبہ واضح کیا ہے کہ ۲۰۰۲ کی ایس آئی آر میں ووٹرز اپنے دادا دادی یا نانا نانی، دونوں میں سے کسی کی تفصیلات پیش کرسکتے ہیں۔ تاہم بعض سطحوں پر اب بھی اس حوالے سے غلط فہمی پائی جاتی ہے۔

اے ای آر او نے وضاحت کی کہ دونوں جانب کے بزرگوں کی تفصیلات قابل قبول ہیں، اگرچہ زیادہ تر ووٹرز والد کی جانب کے بزرگوں کی تفصیلات دینا آسان سمجھتے ہیں۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی بھی ایس آئی آر نوٹس سے متعلق دستاویزات کی وضاحت کرتے ہوئے دونوں جانب کے بزرگوں کا ذکر کرچکے ہیں۔

سماعت دوبارہ مقرر ہوسکتی ہے: بعض حلقوں میں مطلوبہ دستاویزات مکمل نہ ہونے کی صورت میں ووٹرز کی سماعت کی تاریخ دوبارہ مقرر کی جارہی ہے۔ میڈچل کے ای آر او نلا وینکٹ ریڈی کے مطابق تقریباً ۵۰ فیصد سماعتیں ووٹرز کو اضافی دستاویزات جمع کرانے کا وقت دینے کے لیے ملتوی کی جارہی ہیں۔

تلنگانہ کی سول سوسائٹی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی دستاویز یا وضاحت کو ناکافی قرار دینے کی صورت میں ووٹرز کو پہلے اطلاع دی جائے اور حتمی انتخابی فہرست جاری ہونے سے قبل اضافی دستاویزات یا وضاحت پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button