بین الاقوامیعرب دنیا

سعودی تیل پائپ لائن حملہ عراق سے کیا گیا، بغداد کا دعویٰ

عراق نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی اہم مشرقی مغربی تیل پائپ لائن پر کیے گئے ڈرون حملے اس کی سرزمین سے کیے گئے۔ حملے کے بعد عراقی حکومت نے میسان صوبے کے آپریشنز کمانڈر کو برطرف کرکے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ میسان کی سرحد ایران سے ملتی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرون عراق سے آئے تھے۔ ریاض نے واضح کیا کہ وہ جوابی کارروائی نہیں کرے گا تاکہ عراقی حکومت کو حملہ آوروں کے خلاف ضروری اقدامات کرنے کا موقع دیا جاسکے۔

مشرقی مغربی تیل پائپ لائن سعودی عرب کے لیے انتہائی اہم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز میں جنگ کے باعث تیل کی بحری ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق پائپ لائن کے آخری سرے پر واقع بحیرہ احمر کی بندرگاہ کے ذریعے سعودی تیل کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

علاقائی حکام کے مطابق حوثی جنگجوؤں اور عراق میں موجود ایران نواز مسلح گروہوں کے درمیان سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے حالیہ دنوں میں رابطہ اور تعاون ہوا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی تیل پائپ لائن حملے کے پیچھے ایران کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ غالباً ایران ہی اس حملے کے پیچھے ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی انتظامیہ کے حوثیوں کے ساتھ رابطے ہوئے ہیں اور حوثی امریکہ کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے۔

یمن میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے باعث ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق جولائی سے اب تک کم از کم 76 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ چند روز قبل یہ تعداد 46 ہزار بتائی گئی تھی۔

یمن کے شہر عدن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں مقامی افراد نے بے گھر خاندانوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی ہے۔ متاثرین نے بتایا کہ حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی خاندان جان بچانے کے لیے اچانک گھروں سے نکل گئے۔

ادھر لبنان اور اسرائیل کے درمیان نئے براہ راست مذاکرات اکتوبر میں روم میں ہونے کا امکان ہے۔ یہ مذاکرات امریکہ کی ثالثی میں ہوں گے۔ دونوں ممالک کے سفارتی نمائندے آئندہ ہفتے واشنگٹن میں بھی ملاقات کریں گے تاکہ موجودہ صورتحال اور جون میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جاسکے۔

دوسری جانب شام نے بھی خطے میں جاری جنگ کے باعث ایندھن کے بحران سے خبردار کیا ہے۔ شامی وزیر توانائی محمد البشیر نے کہا کہ جنگ کے باعث تیل سے متعلق مصنوعات کی قلت میں اضافہ ہورہا ہے، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار شام کی توانائی کی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button