ایل نینو سے بھارت میں ڈینگی اور گرمی سے ہونے والی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ موسمی تبدیلیوں اور ایل نینو کے اثرات کے باعث بھارت میں ڈینگی، ملیریا اور شدید گرمی سے متعلق بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بے ترتیب بارش، غیر معمولی گرمی اور موسم میں اچانک تبدیلیاں صحت عامہ کے لیے دوہرا خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایل نینو کی شدت میں اضافے کے باعث بھارت کو صحت کے حوالے سے زیادہ خطرے والے ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔ اس موسمی صورتحال سے ایک جانب مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ دوسری جانب شدید گرمی کے باعث ہیٹ ایکزاسشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
دارالحکومت نئی دہلی میں صورتحال پہلے ہی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ بلدیاتی اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ڈینگی کے 90 نئے کیسز سامنے آئے، جو رواں سال کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کے ساتھ شہر میں رواں موسم کے دوران ڈینگی کے مجموعی کیسز 311 تک پہنچ گئے۔ ملیریا کے کیسز بھی جولائی کے 17 سے بڑھ کر اگست میں 53 ہوگئے۔
ایل نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندری سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے سے پیدا ہونے والا موسمی رجحان ہے، جو دنیا بھر کے موسم کو متاثر کرسکتا ہے۔ بھارت میں اس کے نتیجے میں طویل خشک موسم، معمول سے زیادہ درجہ حرارت اور غیر متوقع بارش دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ درجہ حرارت مچھروں کے اندر ڈینگی وائرس کی افزائش اور منتقلی کے عمل کو تیز کرسکتا ہے۔ دوسری جانب بے ترتیب بارش کے بعد شہری علاقوں، تعمیراتی مقامات، نالیوں، کولروں اور گھریلو برتنوں میں جمع پانی مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
بھارتی ماہر موسمیات ڈاکٹر انجال پرکاش کے مطابق ایل نینو صرف درجہ حرارت میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ موسمی حالات میں عدم استحکام بھی پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق غیر معمولی نمی اور مسلسل گرمی مچھروں کی افزائش اور وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین نے گرمی سے ہونے والی بیماریوں اور ڈینگی کی علامات میں فرق پر بھی زور دیا ہے۔ شدید گرمی کی صورت میں چکر آنا، الجھن، تیز نبض، پٹھوں میں شدید کھنچاؤ اور جسمانی درجہ حرارت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ ڈینگی میں تیز بخار، آنکھوں کے پیچھے درد، جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، جلد پر دانے، متلی اور پلیٹ لیٹس میں کمی جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔



