حوثیوں کا اہم جزیرے پر قبضہ، سعودی تیل پائپ لائن حملے کے بعد بند
یمن میں حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر میں واقع اہم میون جزیرے پر قبضہ کرلیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق حوثیوں نے جمعہ کی صبح کئی کشتیوں کے ذریعے جزیرے پر پہنچ کر بغیر کسی بڑی فوجی مزاحمت کے وہاں کنٹرول قائم کرلیا۔
حکام کے مطابق حوثیوں نے جزیرے پر بکتر بند گاڑیاں اور دیگر فوجی سازوسامان بھی تعینات کردیا ہے۔ یہ جزیرہ آبنائے باب المندب کے اندر واقع ہے اور اس اہم سمندری راستے کو دو بحری گزرگاہوں میں تقسیم کرتا ہے۔ جزیرے پر قبضے سے حوثیوں کو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان عالمی تجارتی راستے پر اہم اسٹریٹجک پوزیشن حاصل ہوگئی ہے۔
حوثیوں نے اس سے ایک روز قبل یمن کے ساحلی شہر مخا پر بھی قبضہ کیا تھا۔ شدید لڑائی کے بعد حوثیوں نے شہر کی بندرگاہ، ہوائی اڈے اور اہم سرکاری تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کے بعد انہوں نے آبنائے باب المندب کے قریب واقع ذباب ضلع کی جانب بھی پیش قدمی کی۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی جنگ ملک کو وسیع تر علاقائی تنازع میں دھکیل سکتی ہے، جس کے عالمی سطح پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق مخا پر قبضے نے حوثیوں کو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک کے قریب براہ راست موجودگی فراہم کردی ہے اور اس سے بحری آمدورفت کی آزادی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کے خلاف حملے کے بعد تیل کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اہم مشرقی مغربی تیل پائپ لائن کو بند کردیا گیا ہے، جس سے خطے میں توانائی کی فراہمی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
عراق میں بھی اس معاملے پر کارروائی کی گئی ہے۔ عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے میسان صوبے کے فوجی کمانڈر کو اس تحقیقات کے بعد عہدے سے برطرف کردیا کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون جنوبی عراق سے اڑائے گئے تھے۔ اس انکشاف کے بعد بغداد پر ایران نواز مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ادھر یمن سے فرار ہونے والے 500 سے زائد پناہ گزین جبوتی کے ساحلی شہر اوبوک پہنچ گئے ہیں۔ جبوتی کے وزیر اقتصادیات و خزانہ الیاس دعالیہ کے مطابق ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں ایندھن ختم ہونے کے باعث سمندر میں پھنس جانے والی کشتیوں سے بچایا گیا۔



