شی جن پنگ کے ساتھ چین کے طاقتور رہنما کائی چی بھارت پہنچ گئے
چینی صدر شی جن پنگ کے بھارت دورے کے دوران چین کے اعلیٰ ترین رہنماؤں میں شامل کائی چی کی موجودگی نے خصوصی توجہ حاصل کی ہے۔ کائی چی کو شی جن پنگ کا قریبی ساتھی اور چین کا دوسرا طاقتور ترین رہنما قرار دیا جاتا ہے۔ وہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ کے ہمراہ بھارت پہنچے ہیں۔
ذرائع کے مطابق 67 رکنی چینی وفد میں کائی چی کے علاوہ وزیر خارجہ وانگ یی بھی شامل ہیں۔ برکس سربراہ اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہورہا ہے۔ شی جن پنگ کا موجودہ دورہ تقریباً سات سال بعد بھارت کا پہلا دورہ ہے۔
کائی چی چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی مستقل کمیٹی کے رکن اور مرکزی کمیٹی کے جنرل آفس کے ڈائریکٹر ہیں۔ اس عہدے کے باعث وہ صدر شی جن پنگ کے اہم انتظامی معاملات، معلومات کے بہاؤ، ملاقاتوں کے نظام الاوقات اور داخلی رابطہ کاری میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
کائی چی کے سیاسی سفر کا شی جن پنگ کے ساتھ قریبی تعلق رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان فُوجیان اور ژے جیانگ میں قیام کے دوران طویل عرصے تک سیاسی اور انتظامی روابط رہے۔ کائی چی بعد میں بیجنگ کے میئر اور کمیونسٹ پارٹی کے مقامی سربراہ سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔
2022 میں انہیں چین کی سات رکنی سیاسی بیورو مستقل کمیٹی میں شامل کیا گیا اور مرکزی کمیٹی کے سکریٹریٹ کا فرسٹ سکریٹری مقرر کیا گیا۔ جون 2026 میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی پارٹی اسکول اور نیشنل اکیڈمی آف گورننس کی قیادت بھی سنبھال لی، جس سے چینی سیاسی نظام میں ان کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا۔
ماہرین کے مطابق شی جن پنگ کے ساتھ کائی چی کی موجودگی محض سفارتی رسمی کارروائی نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ چین بھارت کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوششوں کو اعلیٰ سیاسی سطح پر اہمیت دے رہا ہے۔



