یمن میں لڑائی پھر شدت اختیار کرگئی، سعودی فضائی حملے میں موخا ہوائی اڈہ نشانہ
یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا پر سعودی عرب نے جمعہ کو فضائی حملہ کیا۔ حوثی باغیوں کے زیرِ انتظام ایک نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا کہ سعودی طیاروں نے موخا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ حملے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان یا بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
یہ کارروائی ایک روز بعد ہوئی جب ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے موخا شہر میں داخل ہوکر اس پر قبضہ کرلیا۔ موخا پر کنٹرول نے حوثیوں کو اہم باب المندب آبنائے کے مزید قریب پہنچا دیا ہے، جس سے عالمی تجارتی جہازرانی کے لیے خطرات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن حازم الاسد نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق حوثی سعودی کارروائیوں کا جواب دے رہے ہیں اور اگر ریاض نے حملے جاری رکھے تو ان کے پاس سعودی عرب کے خلاف اہم اہداف موجود ہیں۔
دوسری جانب ایران نے جمعہ کو یمن میں سعودی عرب کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور حوثیوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر بھی زور دیا۔
ماہرین کے مطابق موخا پر حوثیوں کا قبضہ بحیرہ احمر سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے راستوں کے قریب ان کی پوزیشن مضبوط کرسکتا ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
حوثی پہلے ہی بحیرہ احمر اور باب المندب میں سعودی جہازرانی کو نشانہ بنانے کے ساتھ سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں یمن کے حوثی زیرِ قبضہ علاقوں پر سعودی ناکہ بندی کے ردعمل میں کی جارہی ہیں۔
یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی سے 2022 میں قائم ہونے والی نازک جنگ بندی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حوثی 2014 سے یمنی حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب نے اگلے سال حکومت کی حمایت میں جنگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔



