ٹرمپ کا بڑا دعویٰ نومبر کے انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی ایران جنگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق تہران کو امید ہے کہ واشنگٹن میں سیاسی تبدیلی کے بعد ایک نرم رویہ رکھنے والی انتظامیہ اقتدار میں آئے گی، جس سے اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران زیادہ دیر تک موجودہ صورتحال کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور اسی وجہ سے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ امریکی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی۔
مذاکرات کے لیے واشنگٹن جلدی میں نہیں
ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے امکان پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ فی الحال اس کے لیے کوشش نہیں کررہا۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر وہ ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتے تھے، تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد صورتحال کافی تبدیل ہوچکی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ مستقبل میں مذاکرات ممکن ہیں، لیکن واشنگٹن اس وقت ان کا خواہاں نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف ایران کا جوہری پروگرام ہی زیر بحث نہیں ہوگا بلکہ دیگر معاملات بھی شامل ہوں گے۔
ایرانی ٹینکروں پر امریکی حملے
امریکی مرکزی کمان کے مطابق منگل کو امریکی فورسز نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک پانچ تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ ان میں چار خام تیل کے ٹینکر خلیج عمان میں، جبکہ ایک جہاز جزیرہ خارگ کے قریب موجود تھا۔
امریکی مرکزی کمان نے کہا کہ ایرانی فورسز کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز پر میزائل حملے کی کوششیں ناکام بنادی گئیں اور کسی امریکی فوجی کی ہلاکت نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ایران نے بدھ 9 ستمبر کو اردن میں موجود موافق الصلتی فضائی اڈے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا، جہاں امریکی فورسز بھی موجود ہیں۔
ایرانی دعوے کے برعکس امریکی مرکزی کمان نے امریکی بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام ایرانی حملے ناکام رہے۔
امریکی مرکزی کمان کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی فورسز نے ایران کے 10 تیل بردار ٹینکروں کو تباہ کیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ ٹینکرز ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے اربوں ڈالر فراہم کرنے والے خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔



