تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

ریونت ریڈی کے اسمبلی بیان پر بی آر ایس کا ردعمل، جعلی پوسٹس کا دعویٰ

تلنگانہ میں دلتوں سے متعلق مبینہ ’تطہیر‘ کے معاملے پر کانگریس اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے درمیان سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی آر ایس کے سینئر رہنما ہریش راؤ نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس نے پارٹی سے منسلک جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فرضی پوسٹس تیار کروا کر بی آر ایس کو نشانہ بنایا۔

ہریش راؤ نے جمعرات، 10 ستمبر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اسمبلی میں جعلی اکاؤنٹس سے کی گئی پوسٹس کی بنیاد پر ’کھلے جھوٹ‘ بولے۔ ان کے مطابق بی آر ایس مبینہ جعلی اکاؤنٹس کے معاملے میں پولیس سے شکایت کرے گی اور تحقیقات کا مطالبہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس وزیر اعلیٰ کے خلاف مراعات شکنی کا نوٹس بھی جاری کرے گی، کیونکہ ان کے بقول ریونت ریڈی نے قانون ساز اسمبلی اور ریاست کے عوام کو گمراہ کیا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ریونت ریڈی نے 9 ستمبر کو اسمبلی میں ایک ایکس پوسٹ کا اسکرین شاٹ پیش کیا۔ مبینہ طور پر ’سندھیا راؤ‘ نامی بی آر ایس حامی اکاؤنٹ سے کی گئی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کے چندرشیکھر راؤ (کے سی آر) کے حکم پر دلتوں کے فارم ہاؤس کے اطراف چلنے والی جگہوں کو ہلدی ملے پانی سے ’پاک‘ کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے اس عمل کو دلتوں کے خلاف امتیاز اور چھوت چھات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ صفائی زمین کی نہیں بلکہ ان ذہنوں کی ہونی چاہیے جہاں ایسی سوچ موجود ہے۔ انہوں نے مبینہ ’فارم ہاؤس سازش‘ کی تحقیقات کا حکم بھی دیا اور حیدرآباد کے جوائنٹ کمشنر پولیس وجے کمار کو نگرانی کی ذمہ داری سونپی۔

دوسری جانب بی آر ایس نے ایکس پر الزام لگایا کہ کانگریس اپنے کارکنوں کے ذریعے بی آر ایس کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنا کر من گھڑت مواد پھیلا رہی ہے۔ پارٹی نے ’سندھیا راؤ بی آر ایس‘ اکاؤنٹ کی سابقہ پوسٹس کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے، جن میں مبینہ طور پر کانگریس کی حمایت نظر آتی ہے۔

بی آر ایس کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ یہ اکاؤنٹ کانگریس کے آئی ٹی سیل سے منسلک جعلی اکاؤنٹ تھا اور اسے اب غیر فعال کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button