آبنائے ہرمز میں ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد نئی بحری گزرگاہوں کا اعلان
ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کے داخلے اور اخراج کے لیے نئی گزرگاہوں کے حوالے سے تفصیلات طے کرلی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک پیر کو مسقط میں ہونے والے علاقائی اجلاس کے دوران خلیجی ممالک کو مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان اگست کے اواخر میں ہونے والے شدید تکنیکی اور سفارتی مذاکرات کے بعد حتمی اتفاق رائے ہوا۔
ذرائع کے مطابق خلیج میں داخل ہونے والی نئی بحری گزرگاہ مکمل طور پر ایرانی علاقائی پانیوں میں ہوگی، جبکہ اخراج کی گزرگاہ کا ایک حصہ بھی ایرانی حدود میں واقع ہوگا۔ یہ راستہ ایرانی انتظامات کے تحت چلایا جائے گا، جبکہ نیا نظام فعال ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کا جنوبی راستہ بند کردیا جائے گا۔
ایرانی ذرائع نے واضح کیا کہ اس اتفاق کا مطلب آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا نہیں ہے۔ ایران نے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات شرائط امریکا کے سامنے رکھی ہیں اور ان شرائط پر عمل درآمد تک آبی گزرگاہ بند رہے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کو عمان میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اجلاس میں ایران اور عراق کے وزرائے خارجہ کی شرکت بھی متوقع ہے۔
28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت محدود کردی تھی، جبکہ امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کی۔ آبنائے ہرمز خلیج کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور دنیا میں تیل و گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ سمجھی جاتی ہے۔



