ٹرمپ کے مقابلے میں کینیڈا کی سرمایہ کاری مہم، مارک کارنی کی عالمی سرمایہ کاروں کو دعوت
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے عالمی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا کی اہمیت صرف امریکہ کے پڑوس تک محدود نہیں بلکہ اس کے پاس دنیا کی ضروریات پوری کرنے والے وسائل اور مواقع موجود ہیں۔
ٹورنٹو میں اس ہفتے ہونے والی کینیڈا سرمایہ کاری کانفرنس میں دنیا کی بڑی سرمایہ کاری کمپنیوں کے تقریباً 300 سربراہان اور اعلیٰ عہدیدار شرکت کر رہے ہیں۔ ان اداروں کے زیر انتظام مجموعی اثاثوں کی مالیت 120 کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔
مارک کارنی نے کینیڈا کے وسیع توانائی کے ذخائر، اہم معدنی وسائل، اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت اور مختلف تجارتی معاہدوں کو ملک کی نمایاں طاقت قرار دیا۔
کارنی نے کہا کہ سرمایہ کار کینیڈا میں اس لیے آرہے ہیں کیونکہ وہ یہاں موجود مواقع میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر سرمایہ کاروں کو امریکہ میں مواقع درکار ہوتے تو وہ براہ راست امریکہ کا رخ کرتے۔
کارنی عالمی مالیاتی شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کینیڈا اور برطانیہ کے مرکزی بینکوں کی سربراہی بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے کینیڈا کا مستحکم ماحول عالمی کاروباری اداروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔
یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہورہی ہے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ اگست میں تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کیے، جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی اقدامات کیے۔
کانفرنس کا مقصد عالمی سرمائے کو اہم کینیڈین منصوبوں کی جانب منتقل کرنا ہے۔ ان شعبوں میں اہم معدنیات، ٹیکنالوجی، دفاع، جدید صنعت سازی اور توانائی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق فوری طور پر بڑے معاہدوں کی توقع نہیں، تاہم آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران اہم سرمایہ کاری کے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔



