معیشت پر مسلسل منفی تبصرے تشویشناک ہیں: نرملا سیتارمن
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بدھ کو کہا کہ بھارتی معیشت کے بارے میں مسلسل منفی تبصرے تشویش کا باعث ہیں، جبکہ موجودہ عالمی حالات کے باوجود بھارت کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے صنعت اور ماہرین پر زور دیا کہ وہ ملکی معیشت اور ٹیکس پالیسی پر بحث کو وسیع تناظر میں دیکھیں۔
حیدرآباد میں انٹرنیشنل ٹیکس ریسرچ اینڈ اینالیسس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام آٹھویں بین الاقوامی ٹیکس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ 7.1 فیصد سہ ماہی شرح نمو کوئی اتفاقی یا بے بنیاد اعداد و شمار نہیں ہے۔ ان کے مطابق دنیا کے کئی ممالک اس وقت انتہائی مشکل معاشی حالات سے گزر رہے ہیں۔
سیتارمن نے کہا کہ صنعت کو دنیا کے دیگر حصوں میں موجود کاروباری حالات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اپنے عالمی ہم منصبوں کے ساتھ زیادہ رابطہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کچھ نہیں ہو رہا، اس طرح کے مسلسل منفی تبصرے تشویش پیدا کرتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو تیسری مرتبہ منتخب کیے جانے اور ٹیکس پالیسی میں یقینی صورتحال کے باعث بھارت عالمی مشکلات کے باوجود بہتر پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے صنعت سے حکومت پر اعتماد برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ٹیکس کٹوتی اور وصولی سے متعلق دفعات کو آسان بنایا، حد مقرر کرنے کی سطح میں اضافہ کیا اور غیر ضروری مجرمانہ کارروائیوں میں کمی کی ہے۔
وزیر خزانہ نے ٹیکس مقدمات کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ووِواد سے وشواس جیسی اسکیموں نے پرانے تنازعات ختم کرنے کا موقع دیا، جبکہ 2024 میں مختلف عدالتوں میں محکمانہ اپیلوں کی مالی حد بھی بڑھائی گئی۔
بین الاقوامی ٹیکس کے حوالے سے سیتارمن نے کہا کہ بھارت نے ماریشس، سنگاپور اور قبرص کے ساتھ ٹیکس معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کیے تاکہ سرمائے سے حاصل ہونے والے منافع پر ملک کے ٹیکس حقوق بحال کیے جاسکیں۔
انہوں نے عالمی تجارتی محصولات، جاری جنگوں، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خام تیل و کھاد کی قیمتوں کو بھارت کے لیے اہم چیلنجز قرار دیا۔



