امریکہ نے خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کی تصدیق کردی، روس کے انتباہات کے بعد بڑا انکشاف
امریکہ نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس نے خلا میں ہتھیار تعینات کیے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے پیر، 14 ستمبر کو بتایا کہ امریکہ نے مدار میں ایسے خلائی کنٹرول ہتھیار تعینات کیے ہیں جو دشمن کی کارروائیوں کے خلاف امریکی فوجی دستوں کے دفاع کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
مینک نے ان ہتھیاروں کی نوعیت، طریقہ کار یا ان کے مخصوص اہداف کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ ہتھیار خلا میں موجود دیگر اشیا یا زمین پر موجود اہداف کے خلاف استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
امریکہ پہلے بھی روس اور چین کی جانب سے خلا میں فوجی صلاحیتیں بڑھانے پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ امریکی بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ مواصلاتی مصنوعی سیاروں پر انحصار کرتا ہے، جس کے باعث خلائی سلامتی واشنگٹن کے لیے اہم معاملہ بن چکی ہے۔ امریکہ ماضی میں زمین سے مصنوعی سیاروں کو نشانہ بنانے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ بھی کرچکا ہے۔
مینک نے فضائی اور خلائی افواج کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فضائیہ اپنی صلاحیتوں میں مزید خودکار نظام شامل کررہی ہے اور 2032 تک اس کی شکل نمایاں طور پر مختلف ہوسکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرون مستقبل میں توپ خانے کی جگہ اہم حملہ آور نظام بن سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خلائی دفاع پر بڑھتی توجہ کے دوران سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور حکومت میں گولڈن ڈوم میزائل دفاعی نظام کا اعلان کیا، جس میں خلا میں امریکی ہتھیار تعینات کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کے مطابق صرف اس نظام کے خلائی حصوں پر آئندہ 20 برسوں میں 542 ارب ڈالر تک لاگت آسکتی ہے۔
دوسری جانب روس خلا میں ہتھیاروں کی تعیناتی کے حوالے سے امریکہ پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ 1967 کے بین الاقوامی معاہدے میں خلا کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور جوہری یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی کی بات کی گئی ہے۔ روس نے 2024 میں خلا میں تمام ہتھیاروں پر مکمل پابندی کی تجویز بھی پیش کی تھی، تاہم یہ منظور نہیں ہوسکی۔



