صحت

چہل قدمی یا یوگا؟ صحت کے لیے کون سا زیادہ فائدہ مند ہے

صحت مند رہنے کے لیے ورزش کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ چہل قدمی اور یوگا ایسی سرگرمیاں ہیں جنہیں مختلف عمر کے افراد اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم دونوں کے فوائد اور جسم پر اثرات مختلف ہیں۔ اس لیے انتخاب کا انحصار فرد کی صحت، جسمانی ضرورت اور مقصد پر ہونا چاہیے۔

صبح کی چہل قدمی دل اور خون کی گردش کے لیے ایک مفید جسمانی سرگرمی ہے۔ باقاعدگی سے چلنے سے جسم متحرک رہتا ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ چہل قدمی جسمانی توانائی خرچ کرنے کا آسان ذریعہ بھی ہے، اس لیے وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے یہ مفید عادت ثابت ہو سکتی ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی پھیپھڑوں کی کارکردگی اور مجموعی توانائی کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے بھی مناسب چہل قدمی خون میں شکر کی سطح اور انسولین کے استعمال کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتی ہے۔ صبح کے وقت باہر چلنے سے ذہنی دباؤ کم کرنے اور مزاج بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

دوسری جانب یوگا صرف جسمانی ورزش نہیں بلکہ جسم، سانس اور ذہن کو ایک ساتھ متوازن رکھنے کی مشق ہے۔ مختلف آسن پٹھوں کو کھینچتے ہیں اور جسم میں لچک پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مناسب انداز میں یوگا کرنے سے کمر، گردن اور جوڑوں کی بعض عام تکالیف میں بھی آرام مل سکتا ہے۔ سانس کی مشقیں اور مراقبہ ذہنی دباؤ کم کرنے، توجہ بہتر بنانے اور نیند کے معیار میں بہتری لانے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ مختلف آسن جسمانی توازن، نشست اور کھڑے ہونے کے انداز کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

اگر مقصد وزن کم کرنا، دل کی صحت بہتر رکھنا اور جسمانی سرگرمی بڑھانا ہے تو چہل قدمی مفید انتخاب ہو سکتی ہے۔ جبکہ ذہنی سکون، لچک اور جسمانی کھنچاؤ کم کرنا مقصد ہو تو یوگا زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔

بہتر نتائج کے لیے ہفتے میں تین سے چار دن چہل قدمی اور باقی دن ہلکی یوگا مشقیں کی جا سکتی ہیں۔ روزانہ 15 سے 20 منٹ چہل قدمی کے بعد تقریباً 15 منٹ ہلکا یوگا بھی معمول کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button