روزانہ ۳۰ منٹ پیدل چلیں، صحت مند زندگی اپنائیں
آج کی تیز رفتار زندگی میں زیادہ تر لوگ گھنٹوں بیٹھ کر کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے موٹاپا، دل کے امراض، شوگر، بلند فشارِ خون اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ صرف تیس منٹ تیز قدموں سے چہل قدمی کی جائے تو کئی خطرناک بیماریوں کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روزانہ پیدل چلنے سے دل مضبوط ہوتا ہے، خون کی روانی بہتر رہتی ہے اور جسم میں جمع ہونے والی اضافی چربی کم ہونے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسم کی قوتِ مدافعت بھی بہتر ہوتی ہے، جس سے مختلف بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے پیدل چلنے والے افراد میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور افسردگی کی علامات نسبتاً کم دیکھی جاتی ہیں۔ چہل قدمی کے دوران جسم ایسے قدرتی کیمیائی مادے خارج کرتا ہے جو انسان کے موڈ کو بہتر بناتے اور ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیدل چلنے کے ساتھ متوازن غذا، مناسب نیند اور زیادہ پانی پینے کی عادت بھی اختیار کر لی جائے تو مجموعی صحت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ خاص طور پر بزرگ افراد، دفتری ملازمین اور طلبہ کو روزانہ کچھ وقت چہل قدمی کے لیے ضرور نکالنا چاہیے۔
البتہ جن افراد کو دل، جوڑوں یا سانس کی دائمی بیماری لاحق ہو، انہیں باقاعدہ ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔


