غمناک انجام امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد طالب علم کی خودکشی، میرا قصور کیا تھا
قومی طبی داخلہ امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان کے اعلان نے کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین لیں۔ انہی میں سترہ سالہ کاہان پٹیل بھی شامل تھا، جس نے دوبارہ امتحان سے صرف تین دن قبل اپنے رہائشی اپارٹمنٹ کی چھٹی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی۔
اہلِ خانہ کے مطابق اس کے کمرے میں سب کچھ ویسا ہی تھا جیسے وہ ابھی واپس آ جائے گا۔ لیپ ٹاپ کھلا ہوا تھا، کتابیں، نوٹ بک، قلم، مطالعے کا سامان، گٹار اور تعلیمی اعزازات اپنی جگہ موجود تھے، مگر ان کے بقول "صرف کاہان موجود نہیں تھا۔”
رپورٹس کے مطابق اس سال قومی طبی داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ کر کے دوبارہ لینے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد مبینہ طور پر اکیس طلبہ نے خودکشی کر لی۔ اس واقعے نے ملک بھر میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور ہزاروں طلبہ نے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے امتحانی نظام میں شفافیت اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
کاہان کے والد پرشانت پٹیل نے بتایا کہ ان کا بیٹا ڈاکٹر بننے کا خواب رکھتا تھا۔ بہتر تعلیم کے لیے پورا خاندان سورت سے احمد آباد منتقل ہوا تاکہ وہ اچھی تیاری کر سکے۔ وہ پڑھائی کے ساتھ فٹبال کھیلتا، ناول پڑھتا، گٹار بجاتا اور امتحان کے بعد اہلِ خانہ کے ساتھ بیرونِ ملک سفر کا بھی منصوبہ بنا چکا تھا۔
کاہان بار بار اپنے والد سے ایک ہی سوال کرتا رہا، "میرا قصور کیا تھا؟ ایمانداری سے امتحان دینے والے طلبہ کو سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہی؟”
والد نے اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی، مگر اب وہ خود سوچتے ہیں کہ شاید ان کے الفاظ بیٹے کے دل کا بوجھ کم نہ کر سکے۔ حیرت انگیز طور پر خودکشی سے ایک روز پہلے بھی کاہان نے اپنے دادا سے ویڈیو گفتگو میں خوش دلی سے بات کی تھی اور ان سے جوتے اور کپڑے لانے کی فرمائش بھی کی تھی، جس سے کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اندر ہی اندر کس اذیت سے گزر رہا ہے۔



